ایک برس میں تقریباً تین لاکھ تارکینِ وطن کی برطانیہ آمد

برطانوی حکومت ہجرت کرنے والوں کی مجموعی تعداد کو انتخابات سے قبل ایک لاکھ سے کم کرنا چاہتی ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانوی حکومت ہجرت کرنے والوں کی مجموعی تعداد کو انتخابات سے قبل ایک لاکھ سے کم کرنا چاہتی ہے

برطانیہ میں ایک برس کے دوران سکونت اختیار کرنے کے لیے آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد تقریباً تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

ملک میں عام انتخابات سے قبل آنے والے آخری سہ ماہی اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں 2010 میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کے آغاز کی نسبتاً مہاجرین کی تعداد بڑھی ہے۔

ستمبر 2014 تک کے اعدادوشمار کے مطابق ایک برس میں دو لاکھ 98 ہزار افراد نے بیرونِ ملک سے برطانیہ آ کر سکونت اختیار کی۔

کنزرویٹو پارٹی پر امید ہے کہ اس تعداد کو رواں سال مئی تک ایک لاکھ سے نیچے لے جایا جائے گا۔

یاد رہے کہ جون 2005 میں تین لاکھ 20 ہزار افراد برطانیہ منتقل ہوئے تھے جبکہ 2010 میں یہ تعداد کم ہو کر دو لاکھ 52 ہزار تک رہ گئی تھی۔

نیٹ مائیگریشن یا مجموعی ہجرت میں ایک سال تک برطانیہ میں رہنے کے لیے آنے والوں اور ایک سال سے برطانیہ میں رہنے والے مہاجرین کے نمبر میں تفریق ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں رہائش پذیر تارکینِ وطن کی کل تعداد میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔

ستمبر 2014 تک برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد چھ لاکھ 24 ہزار تھی جبکہ اس سے پچھلے ایک سال کے دوران یہ تعداد پانچ لاکھ 30 ہزار تھی۔

اسی عرصے کے دوران تقریباً 327000 افراد نے برطانیہ سے ہجرت کی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے مائیگریشن کے عمل پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ موجودہ دورِ حکومت میں یورپی یونین سے باہرموجود ممالک سے برطانیہ ہجرت کرنے والے تارکین وطن کی تعداد کبھی بھی ایک لاکھ سے کم نہیں رہی۔