دبئی کی فلک بوس رہائشی عمارت میں آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہAP
دبئی میں دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارتوں میں سے ایک میں آتشزدگی کی وجہ سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
دبئی مرینا کے علاقے میں واقعے ’ٹارچ‘ نامی اس 1105 فٹ بلند عمارت میں آگ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب 50ویں منزل پر لگی اور تیز ہواؤں کی وجہ سے تیزی سے پھیلی۔
آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی امدادی اداروں کے کارکن موقع پر پہنچے اور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد اس پر قابو پا لیا گيا۔
تاحال آگ لگنے کا سبب معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
امدادی آپریشن کے دوران ہزاروں افراد کو متاثرہ عمارت سے نکالا گیا اور ابھی تک کسی ہلاکت کی خبر نہیں ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹوں پر پیش کی جانے والی تصاویر میں پگھلے ہوئے شیشوں اور ديگر اشیا کو گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا: ’ہر طرف راکھ اڑ رہی تھی اور ملبہ پڑوس کی عمارتوں پر گر رہا تھا۔
ایک عینی شاہد رولا نے بی بی سی کو بتایا: ’بظاہر آگ 50 ویں منزل پر لگي تھی اور صرف ڈیڑھ گھنٹے میں 60ویں منزل تک پہنچ گئی۔ بظاہر یہ نظر آ رہا تھا کہ باہر کی جانب والے اپارٹمنٹس ہی اس کی زد میں آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’ہرچند کہ آگ صبح تین بجے لگی لیکن لوگ اسے دیکھنے کے لیے اپنی عمارتوں کے بالاخانوں پر نکل آئے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’شہری تحفظ کا عملہ جلدی آیا اور انھوں نے کسی بھی ہلاکت سے انکار کیا ہے۔ ہر کسی سے مکان بروقت خالی کروا لیا گیا اور ہمارے خیال سے سب ٹھیک ہے۔‘
سیرائل سیکریتیو نے جو متاثرہ عمارت کے پڑوس کی عمارت پرنسس ٹاور میں رہتے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ تمام رہائشیوں کو عمارت خالی کردینے کے لیے کہا گیا لیکن بعد میں انھیں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔

انھوں نے کہا: ’میں نے چار منزلوں میں آگ دیکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے 20 منزلوں اور پھر 60 منزلوں تک پھیل گئی۔ ہوا بہت تیز تھی اس لیے حالات قابو میں نہیں تھے۔ ہمیں خوف تھا کہ ہوا آگ کو مزید پھیلا دے گي۔
خیال رہے کہ یہ 79 منزلہ ٹارچ رہائشی عمارت سنہ 2011 میں رہنے کے لیے تیار ہوئی تھی۔ اس سے قبل سنہ 2012 میں ایک 34 منزلہ عمارت تمویل ٹاور میں آگ لگی تھی جس میں ہلاکت تو کوئی نہیں ہوئی تھی البتہ اس کا سبب جلتی ہوئی سگریٹ تھی۔







