بلدیہ فیکٹری میں آتش زدگی میں ایک گروہ ملوث ہے: پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کی آتش زدگی حادثہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گروہ کا ہاتھ ہے جبکہ پولیس نے گرفتار ملزم کا بیان نامعلوم وجوہات کی وجہ سے عام نہیں کیا۔
چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ میں مزدوروں کے غیر سرکاری ادارے پائلر اور دیگر تنظیموں کی دائر درخواست پر سماعت کے موقعے پر رینجرز کے وکیل نے ایک سر بمہر رپورٹ پیش کی۔
<link type="page"><caption> کراچی: فیکٹری میں آتشزدگی، مرنے والوں کی تعداد 264</caption><url href="کراچی: فیکٹری میں آتشزدگی، مرنے والوں کی تعداد 264" platform="highweb"/></link>
جسٹس مقبول بار نے وکیل سے سوال کیا کہ اس میں کیا ہے تو رینجرز کے وکیل نے انھیں بتایا کہ حال ہی میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جس کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے اور اس نے دوران تفتیش جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کو بتایا کہ وہ بلدیہ فیکٹری آتش زدگی میں ملوث ہے۔
رینجرز کے لا افسر کے مطابق اس تفتیشی رپورٹ کو پولیس نے عام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز نے اس مشتبہ ملزم سے دوبارہ تفتیش کی ہے۔ انھوں نے اس رپورٹ کو عام نہ کرنے کی درخواست کی۔
سندھ حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ 528 متاثرین کے لواحقین کو معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے جبکہ سوا سو سے زائد کو ادائیگی ہونی ہے۔ اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ معاوضے کی ادائیگی کو جلد سے جلد ممکن بنایا جائے۔
پائلر اور سول سوسائٹی کی دیگر تنظیموں نے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں واقعے کی جوڈیشل انکوائری، ذمے داروں کا تعین کرنے اور معاوضے کی ادائیگی کی درخواست کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو پیش آنے والے اس واقعے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 259 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کراچی پولیس نے اس معاملے میں متاثرہ فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ سمیت دیگر ذمہ دار ملازمین کو گرفتار کیا تھا جنھیں ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فائر بریگیڈ، واقعے کے تحقیقاتی ٹریبیونل اور کیمیکل تجزیے میں یہ ثابت ہوا تھا کہ فیکٹری میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters







