فرانس: یہودیوں کی قبروں کو نقصان پہنچانے پر پانچ گرفتار

،تصویر کا ذریعہEPA
فرانس میں یہودیوں سے منافرت کی بِنا پر سینکڑوں یہودیوں کی قبروں کو مسمار کرنے کے الزام میں پانچ نوجوان لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ان مبینہ حملہ آوروں کی عمر 15 سے 17 سال کے درمیان ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ’ قبروں کی بے حرمتی مذہب کی وجہ سے کی۔‘
فرانس کے شمال مشرقی گاؤں سرے یونین میں گذشتہ جمعرات کو قبرستان میں موجود قبروں کے کتبے اکھاڑ دیے گئے اور قبروں کو کھول دیا گیا۔
مقامی استغاثہ فِلپ ویننائر کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ قبروں کی بے حرمتی کو کھیل کا حصہ سمجھا گیا جو کہ غلط تھا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دکھائی دینے والی قبروں پر نقش و نگار اور نازی پارٹی کے نشان اور نعرے درج ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 250 قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔
مقامی استغاثہ فِلپ ویننائرنے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام کے پیچھے یہودیت کے خلاف منافرت کا جذبہ واضح طور ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چار لڑکوں کو نابالغوں کی جیل میں رکھا گیا ہے جبکہ ایک لڑکے کو نظر بند رکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ فرانس میں یہودیوں کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے تاہم اب وہ بڑی تعداد میں اسرائیل منتقل ہو رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں یورپ میں بسنے والے یہودیوں کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ وہ یورپی ممالک میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔







