یہودیوں کے اثاثے، نگران مسلمان

- مصنف, راہول تنڈن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کولکتہ
بھارت کے شہر کولکتہ کے مرکز میں واقع یہودیوں کے ایک گرلز سکول کی طالبات کے لیے یہ ایک مصروف وقت ہے۔ ان میں سے بہت سی بچیاں اپنے سالانہ امتحان دے رہی ہیں۔
ان سب نے بڑے سلیقے سے سکول یونیفارم پہن رکھا ہے۔ ان کے یونیفارم کی قمیض پر’سٹار آف ڈیوڈ‘ یعنی چھے کونے والے ستارے کی علامت بنی ہوئی ہے لیکن سکول کے باہر کھڑی ان کی منتظر مائیں شلوار قمیض اور برقع پہنے ہوئے ہیں۔
اب یہاں پڑھنے والے زیادہ تر بچے مسلمان ہیں اور شاید اب چند ہی لوگوں کو یاد ہو کہ آخری بار اس سکول میں کوئی یہودی بچہ کب پڑھنے آیا تھا۔
دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے شمار کیے جانے والے اس شہر کے زیادہ تر لوگوں کی طرح آج کے بچے بھی کولکتہ کے یہودیوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ تاہم زندگی کی پانچ دہائیاں دیکھ چکنے والی سلیمن جائیل اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس سے پہلے کہ یہ کمیونٹی مکمل طور پر ختم ہو جائے، جائیل کولکتہ کے یہودیوں کی تاریخ کو ریکارڈ کر کے اسے ڈیجیٹل طریقے پر محفوظ کر رہی ہیں۔
جائیل اس کمیونٹی کی نوجوان نسل کا حصہ ہیں۔ کولکتہ کے یہودی کمیونٹی کے ارکان کی طرف سے بھیجی گئی تصاویر سے ان کا ای میل باکس بھرگیا ہے۔ یہ لوگ اب دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ یہاں کی ایک پھلتی پھولتی ہوئی کمیونٹی تھی۔
کولکتہ شہر
ان کی اقتصادی کامیابی نے عراق سے دوسرے لوگوں کی کولکتہ آنے میں حوصلہ افزائی کی اور دوسری عالمی جنگ کے آتے آتے یہاں پانچ ہزار سے زیادہ یہودی آباد ہو گئے تھے۔ اب یہاں 25 سے بھی کم یہودی رہ گئے ہیں جو کولکتہ شہر کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
جائیل کہتی ہیں کہ ’جب یہ واضح ہوگیا کہ برطانوی بھارت سے چلے جائیں گے تو بہت سے یہودی یہاں سے چلےگئے۔ انہیں اس بات کی فکر تھی کہ بھارت میں کل کیا ہوگا؟ اور جیسے ہی کچھ لوگوں نے جانا شروع کیا باقی لوگ بھی ان کے پیچھے ہولیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
'دی میگن ڈیوڈ' کی تعمیر سنہ 1880 میں ہوئی تھی۔ اس کے ڈیزائن پر ان برطانوی گرجا گھروں کا گہرا اثر دیکھا جا سکتا ہے جو اس دور کے کولکتہ میں بنائے جا رہے تھے۔ اس میں ایک مینار بھی ہے جو یہودی اپاسناستھلو کے لیے ایک غیر معمولی بات ہے۔
جائیل سلیمن کہتی ہیں کہ ’یہودی کمیونٹی کو بغداد میں موجود اپنے قائدین سے اس مینار کی تعکیر کے لیے لکھ کر اجازت حاصل کرنی پڑی تھی۔ اور یہ اجازت دی گئی تو اس شرط کے ساتھ دی گئی کہ یہ مینار آس پاس کی تمام عمارتوں سے اونچا ہوگا۔‘
یہ عبادت گاہ جو کبھی کولکتہ کے یہودیوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوا کرتی تھی اب خالی پڑی ہوئی ہے۔
اس کے گیٹ کے باہر سڑک پر دکان لگانے والے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک چرچ ہے۔
’جب میں نے انہیں یہ بتایا کہ یہ اصل میں یہودیوں کی عبادت کی جگہ ہے تو وہ چکرا سے گئے۔ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا ’کیا تم یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہو؟‘
لیکن میرے جواب سے پہلے انہی کے ایک دوست نے کہا ’ یہ بات صحیح ہے۔ یہی وہ عمارت ہے جس کی دیکھ بھال رابل خان کرتے ہیں۔‘
جب آپ اس کے گیٹ سے اندر جاتے ہیں تو آپ کی ملاقات اس یہودی عبادت گاہ کے ایک مسلمان رکھوالے سے ہوتی ہے۔ رابل خان کا خاندان نسلوں سے ’میگن ڈیوڈ‘ کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
میرے ہاتھ میں یہودیوں کی مخصوص ٹوپی دیتے وقت وہ مسكرائے۔ گویا ان دنوں کو یاد کر رہے ہوں جب یہاں پر عبادت پورے طور طریقے کے ساتھ کی جاتی تھی جسے رابل خان ’نماز‘ کہتے ہیں۔
اور جب میں وہاں سے نکل رہا تھا تو رابل نے مجھے اشارے سے رکنے کے لیے کہا۔ اس نے پوچھا ’کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واپس آئیں گے؟‘
مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ کس طرح سے اس کا جواب دینا چاہیے۔ میں نے صرف اپنے کاندھے جھٹک دیے۔ اس نے کہا ’کوئی بات نہیں، جب تک کہ وہ نہیں آتے ہیں میں اس جگہ کی نگرانی کرتا رہوں گا۔‘
کولکتہ واپس لوٹنے والوں میں سے جائیل کی والدہ فلاور سلیمن بھی ہیں۔ ان کی عمر اسًی سال سے تجاوز کر چکی ہے لیکن ان کی توانائی چالیس برس کی خاتون کی سی ہے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل میں گھر بنانے کے لیے کولکتہ چھوڑا تھا لیکن وہ ہمیشہ اپنی جائے پیدائش کو یاد کرتی رہیں۔ ان کے لیے بھارتی ہونا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ایک یہودی ہونا۔
وہ اپنی ابتدائی زندگی کو ایک ایسے ڈرے اور سہمے ہوئے یہودی بچے کے طور بیان کرتی ہے جس نے خود کو ایک دائرے میں قید کر رکھا ہو۔
نوکروں کے علاوہ جتنے لوگوں کو جانتی تھیں، وہ تمام یہودی تھے کیونکہ ان کے ماں باپ اس بات کی سخت حوصلہ شکنی کرتے تھے کہ وہ کہیں مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل نہ جائیں۔ لیکن فلاور کو یہ سب پسند نہ تھا اور انہوں نے اس کی مخالفت کرنا شروع کر دی۔
کتنی یہودی کتنی بھارتی
انھوں نے ہندی سیکھنے پر اصرار کیا نہ کہ فرانسیسی پر۔ اور جب وہ دہلی میں کالج میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو وہ بھارت کی آزادی کی لڑائی میں بھی شامل ہوگئیں۔
انہیں بڑی اچھی طرح یاد ہے جب دہلی سے واپسی پر ہاوڑا ریلوے سٹیشن پر وہ بھارتی کپڑوں میں پہنچی تھیں۔ ’میری امی گھبرا گئی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فلاور کہتی ہیں کہ ’میری ماں کے لیے تو یہ کچھ ایسا تھا کہ ان کی بیٹی گویا جہنم چلی گئی ہو اور انہوں نے مجھے صاف کہہ دیا کہ جب تک میں ان کی چھت کے نیچے رہوں گی، میں ایسے کپڑے ہر گز نہیں پہنوں گي۔‘
فلاور اور یہودی کمیونٹی کے چھ دیگر ارکان اپنی عبادت گاہ، مقامی قبرستان اور سکولوں کے انتظام پر بات چیت کرنے کے لیے مہینے میں ایک بار اجلاس کرتی ہیں۔
تاریخی اثاثہ
یہاں پیسے کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے لیکن یہاں یہودی کمیونٹی کے اتنے کم لوگ بچے ہیں کہ یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے۔ وہ لوگ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ آنے والے تیس سالوں میں ممکن ہے کہ اس شہر میں ایک بھی یہودی نہ بچے۔
انہیں لگتا ہے کہ اس شہر کے تاریخی ورثے میں ان کی کمیونٹی کا حصہ یہودیوں کی تین عبادت گاہیں اور ایک قبرستان کی شکل میں شامل ہے۔
سکول کی سیکرٹری جوئے کوہن کہتی ہیں: ’یہ کمیونٹی دو سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے اور اس شہر کے لوگ ان کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔ لڑکیوں کے لیے سکول چلا کر ہم کولکتہ شہر کو کچھ واپس لوٹا رہے ہیں۔‘
سکول کی فیس بہت کم رکھی گئی ہے تا کہ مقامی مسلمان کمیونٹی کے لوگ اپنی لڑکیوں کو پڑھا سکیں۔ جوئے کوہن کو امید ہے کہ اگلے دو سو سالوں میں بھی جُوئش گرلز سکول اسی طرح چلتا رہے گا اور یہ کولکتہ کے لیے اتنا ہی اہم رہے گا جتنا کہ آج ہے۔

عابدہ رازق کبھی اسی سکول کی طالبہ ہوا کرتی تھیں اور اب وہ یہیں پر پڑھاتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’مسلمان والدین اس سکول کو چلانے کے لیے یہودی کمیونٹی کے بہت شکر گزار ہیں۔ بچے یہودیوں کے تہوار مناتے ہیں کیونکہ ان کے لیے اس کا مطلب سکول سے ایک اور دن کی چھٹی ہوتا ہے۔‘
کولکتہ کے یہودی چاہے ایک روز غائب ہو جائیں لیکن اس شہر میں کچھ وقت تک ہمیں ایسے لوگ ملتے رہیں گے جو ان کے تہوار مناتے ہوں گے۔







