برادری سے باہر شادی یہودیت کی بقا کے لیے خطرہ

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ایریکا چرنوفسکی
- عہدہ, بی بی سی نیوز ، یروشلم
برادری سے باہر شادی، یعنی یہودی کی غیر یہودی سے شادی کو یہودی قوم کے بقا کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران خبریں آئی ہیں کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بیٹے ایک غیر یہودی نارویجین لڑکی سے مراسم بڑھا رہے ہیں۔
ناروے کے ایک اخبار نے گذشتہ ہفتے یہ خبر دی تھی کہ ناروے کی ایک خاتون سانڈرا لیکانگر اور وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے بیٹے یائر نتن یاہو اب ایک جوڑا بن گئے ہیں۔
<link type="page"><caption> اسرائیل اصل میں کتنا ’یہودی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/02/140203_israel_palestine_recomgnition_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سخت گیرقدامت پسند یہودیوں کے لیے سیکس گائیڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/04/130422_jews_sex_guide_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
اس خبر پر وزیرِ اعظم کے دفتر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ صرف کالج کے ہم جماعت ہیں۔
سانڈرا یہودی نہیں ہیں اور یہ وہ حقیقت ہے جس نے اسرائیل جیسے ملک میں کشیدگی پیدا کر دی ہے، جو اب بھی دنیا بھر میں اپنی پہچان بنانے کے لیے لڑ رہا ہے۔
یہودیت تبلیغی مذہب نہیں ہے، لیکن کسی بھی دوسرے غیر یہودی کی طرح سانڈرا کے پاس بھی مذہب کی تبدیلی کا راستہ ہے۔ لیکن کیا وہ یہودی بننا چاہیں گی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برادری سے باہر شادی اور دوسری تہذیبوں میں جذب ہونے کا عمل وہ روایتی خوف ہیں جنھیں بہت سے یہودی اپنی قوم کی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
یہودی قانون کے مطابق مذہب صرف ماں سے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے اور اگر کوئی یہودی مرد کسی غیر یہودی عورت سے شادی کرے گا تو ان کی اولاد یہودی نہیں کہلائے گی۔
دو برادریوں کے افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں یہودی روایتوں پر عمل اور انہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
فی زمانہ مختلف ملکوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں میں برادری سے باہر شادیوں کی شرح 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ وہ قوم جو ایذا رسائی، منظم قتل عام اور ہولو کاسٹ میں بھی قائم رہی، اب اپنے ہی ہاتھوں بتدریج ختم ہو رہی ہے۔
اس تشویش کا اظہار ایک اسرائیلی تنظیم لیہاوا کی جانب سے یائر نتن یاہو کو لکھے گئے کھلے خط میں کیا گیا۔
تنظیم نے فیس بک پر اپنے صفحے پر لکھا کہ ’اُن کے آبا و اجداد کو قبروں میں تکلیف پہنچی ہو گی۔۔۔ انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا کہ ان کی نسلیں یہودی نہیں رہیں گی۔‘
برادری سے باہر شادیاں زیادہ تر دوسرے ملکوں میں پھیلے ہوئے یہودیوں کا مسئلہ ہیں۔ اسرائیل کے اندر یہودیوں کی آبادی 75 فیصد ہے اور عرب 21 فیصد ہیں اور ان کے مابین شاذ و نادر ہی شادی ہوتی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں غیر ملکی کارکنوں کی آمد اور اسرائیلی برادری کے دنیا بھر میں پھیلنے کی وجہ سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔
کٹر یہودی تنظیم شاس پارٹی کے ایک رہنما آئرہ دیری کا کہنا تھا کہ ’خدانخواستہ اگر یہ سچ ہے تو مجھے اس سے تکلیف ہوئی ہے۔‘
ایک مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے بیٹے کے ایک غیر یہودی لڑکی کے ساتھ مراسم پر افسوس کا اظہار کرتے ان کا کہنا تھا: ’مجھے کسی کے ذاتی معاملات پر بات کرنا پسند نہیں۔۔۔ لیکن اگر یہ سچ ہے تو خدا معاف کرے، یہ اب کسی کا ذاتی معاملہ نہیں رہا، یہ یہودی قوم کی علامت ہے۔‘
خود وزیرِ اعظم کے برادرِ نسبتی نے اس معاملے پر سخت بیان دیتے ہوئے اپنے بھانجے کو تنبیہ کی کہ اگر انہوں نے فوراً اس تعلق کو ختم نہ کیا تو یہ آبا و اجداد کی قبروں پر تھوکنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے ایک کٹر یہودی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں اگر اس نے ایسا کچھ کیا ہے تو میں ذاتی طور پر اسے آبا و اجداد کی قبروں کے قریب نہیں جانے دوں گا۔
’تاریخ میں یہ یہودیوں کو لاحق خطرات میں سب سے زیادہ خوفناک چیز ہے۔ اسرائیل چھوڑنے سے بھی زیادہ خوفناک بات کسی غیر یہودی سے شادی کرنا ہے۔ ‘
’خدانخواستہ اگر ایسا ہوتا ہے تو میں خود کو کہیں دفن کر دوں گا۔ میں سڑکوں پر نکل جاؤں گا، اپنے بال نوچوں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اسرائیل اور یہودیت کے ماہر اور مصنف ڈاکٹر ڈینیئل گورڈس کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دہائیوں سے یہ تبدیلی خاص طور پر دوسرے ممالک میں بسنے والے یہودیوں میں آئی ہے۔
ایک وقت تھا کہ یہودیوں کی کسی غیر یہودی سے شادی قابلِ اعتراض سمجھی جاتی تھی لیکن آج نسبتاً اعتدال پسند اور نئے دور کے یہودیوں میں یہ ممنوع بات نہیں رہی۔ لیکن اسرائیل کے کٹر یہودیوں میں یہ آج بھی متنازع معاملہ ہے۔
ڈاکٹر ڈینیئل کہتے ہیں کہ ’یہ بنیاد پرستی کا معاملہ نہیں، نہ ہی یہ احساسِ برتری ہے، اور نہ ہی یہ اجنبوں سے بیزاری کا مسئلہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ برادری سے باہر شادی کی مخالفت کی دو وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہودی قانون’ ہلاخاہ‘ میں اس کی ممانعت ہے۔
’دوسری وجہ ہے کہ یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ مضبوط یہودی شناخت صرف دو یہودی ماں باپ ہی اپنے بچے میں پرورش کے ذریعے منتقل کر سکتے ہیں۔ ‘
ایک یہودی سکالر ڈاکٹر ڈونیئل ہارٹمین کا کہنا ہے کہ یہودی خوفزدہ ہیں کیونکہ برداری سے باہر شادی کبھی کبھار ہوا کرتی تھی اس لیے جب ایک یہودی کسی غیر یہودی سے سے شادی کرتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا وہ یہودیت چھوڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’جب آپ تعداد میں کم ہوتے ہیں اور آپ اپنے افراد کھو رہے ہوتے ہیں تو آپ پریشان ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہم بس ایک کروڑ 40 لاکھ یہودی ہی ہیں۔
’برادری سے باہر شادی کے خلاف لڑائی ایک ہاری ہوئی جنگ ہے۔ ہم نے برادری سے باہر شادیاں کر رکھی ہیں۔ مسئلہ اب یہ نہیں یہ کہ انہیں کیسے روکا جائے بلکہ اب انہیں یہودی برادری میں خوش آمدید کہنا ہے۔‘
’ہماری رسائی بہتر ہونی چاہییے، ہمارے ادارے بہتر ہونے چاہییں، ہماری یہودی قابلیت کو اور بھی زیادہ متاثر کن ہونا چاہیے۔ ہمیں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے تسلیم کیا کہ ’جدید دنیا میں رہنے کے لیے آپ کو تیز رو ہونا پڑے گا۔ چیزیں بدل رہی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ حالات بدترین ہو رہے ہیں لیکن یہ اس پر منحصر ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ لیکن دنیا بدل رہی ہے اور ہمیں بھی اس کے ساتھ بدلنا ہوگا۔‘







