فرانسیسی یہودیوں میں اسرائیل منتقل ہونے کا رجحان

پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں نے ساری دنیا میں سراسیمگی پھیلا دی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیرس میں شدت پسندوں کے حملوں نے ساری دنیا میں سراسیمگی پھیلا دی
    • مصنف, کیون کنولی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، یوروشلم

اسرائیل کےفرانسیسی بولنے والےشہریوں کے لیے پیرس کی کوشر مارکیٹ میں یرغمالیوں کے واقعہ کا جیسا پرتشدد اختتام سامنے آیا وہ افسوسناک تو ضرور ہے لیکن حیران کن نہیں۔

اسرائیلی ٹی وی چینل ٹین نے کوشر مارکیٹ میں یرغمال بنائے جانے والے ایک نوجوان کا جب انٹرویو کیا تو اس نے اس سارے ماحول کو اپنے اندر سمو لیا جو فرانسیسی بولنےاسرائیلی یہودیوں میں پایا جاتا ہے۔ یوحان ڈوما کوشر مارکیٹ کے کولڈ سٹور میں چھپ کر حملہ آور سے بچنے میں کامیاب رہے جس نے اوپر والی منزل پر کئی لوگوں کو قتل کیا۔

یوحان ڈوما نے اسرائیلی ٹی وی چینل ’ٹین‘ کو بتایا کہ ایک چھوٹے سےگروپ نے کس طرح ایک سٹور کے سرد خانے میں چھپ کر اپنی جان بچائی۔ اسی انٹرویو کے دوران یوحان ڈوما نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ اگلے ہفتے اسرائیل منتقل ہو جائیں گے۔

اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے یوحان ڈوما نے کہا:’ ہم یہاں موت کا انتظار نہیں کر رہے۔‘

اسرائیل میں فرانسیسی سفارت خانے کےسامنے پیرس میں مرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیل میں فرانسیسی سفارت خانے کےسامنے پیرس میں مرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا

یوحان ڈوما نے فرانس کے یہودی شہریوں میں پائے جانے والےایک رجحان سے پردہ اٹھایا ہے۔ فرانسیسی یہودی کھلے بندوں اس دردناک انداز میں اسرائیل منتقلی کا اعلان تو شاید نہ کریں لیکن جو چیز واضح ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانسیسی یہودیوں کی اسرائیل منتقلی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ رجحان ریاستِ اسرائیل کے بنانے کی سب سے بڑی دلیل کو چھوتا ہے۔ یہودیوں کی الگ ریاست بنانے کی تحریک کے دوران یہ دلیل سب سے زیادہ دی گئی کہ دنیا میں یہودیوں کو ستائے جانے کےاختتام کا حل آزاد یہودی ریاست کے قیام میں ہے جہاں وہ پرسکون انداز میں زندگی گذار سکیں گے۔

دوسری جنگ عظیم کےصرف ڈھائی برس بعد اقوام متحدہ نے آزاد ریاست کے قیام کی منظوری دی۔

عبرانی زبانی میں اس صورتحال کو ’علیا‘ کہا جاتا ہے۔ علیا نظریہ کے تحت ہر یہودی خواہ وہ دنیا کے کسی حصے میں بھی پیدا ہوا ہو اسے اسرائیل کی شہریت کی ضمانت ہے۔

فرانس میں یہودیوں کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ فرانس سے یہودیوں کی ہجرت کےفیصلوں کے اور محرکات بھی ہو سکتے ہیں لیکن اسرائیل میں اسے فرانس میں یہود مخالف جذبات میں اضافے سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔

ساٹھ سالہ البرٹ لیوی ایک ریٹائرڈ بزنس مین ہیں جو مراکش میں پیدا ہوئے۔ جب اعلیٰ تعلیم کا وقت آیا تو وہ پیرس کی طرف کھنچے چلے آئے۔ لیکن جب البرٹ لیوی پیرس آئے تو انہیں وہاں اپنی حفاظت کے حوالے سے کوئی خدشات لاحق نہیں تھے۔

کچھ برس پہلے البرٹ لیوی کی بیوی اور تین بچوں نے اسرائیل جانے کا فیصلہ کر لیا۔ البرٹ لیوی کہتے ہیں ’یورپ میں یہودیوں کا وقت پورا ہو چکا ہے۔‘

جب انہیں کہا گیا کہ وہ اس کو واضح کریں تو انھوں نے کہا: ’دیکھیں ہماری نسل نے جو کچھ کیا وہ کیا لیکن اپنے بچوں کےحوالے سے ہمارا خیال ہے کہ اب صورتحال بد سے بدتر ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ فرانس میں یہودی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔

البرٹ لیوی اس کے لیے میڈیا کو ذمہ دار گردانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی جنگوں سے لےکر فلسطینیوں کے انتفادہ تحریک کو جس انداز میں رپورٹ کیا جاتا ہے اس سے اسرائیل کو برا ثابت کیا جاتا ہے۔

لیکن فرانس کا موقف ہے کہ یہودی آبادی فرانس میں بحفاظت رہ سکتی ہے۔

پیرس کی کوشر مارکیٹ میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی تدفین اسرائیل میں کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپیرس کی کوشر مارکیٹ میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی تدفین اسرائیل میں کی گئی ہے

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نےانتخابی مہم کے دوران پیرس میں یونٹی مارچ میں شرکت کے لیے فرانس گئے اور وہاں کے یہودی کے لیے ان کا پیغام بڑا واضح تھا۔’اگر آپ اسرائیل آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ریاست اسرائیل آپ کو کھلے دل سے قبول کرے گی۔‘

یہودیوں کی اسرائیل ہجرت اور انھیں وہاں کے معاشرے میں سمونے کی ذمہ دار تنظیم ’جیوش ایجنسی‘ کے سربراہ یگال پالمور ہیں۔ یگال پالمور فرانسیسی یہودیوں کے جذبات کو بیان کرنے کے لیے اپنے افسر نتھن سرانسکی کا قصہ سناتے ہیں جو روس میں اس جرم میں قید رہے کہ انھوں نےاسرائیل منتقل ہونے کا کیوں سوچا۔

یگال پالمور کہتے ہیں سرانسکی نے انھیں بتایا کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا جب یہودی ماسکو کی سڑکوں پر اپنے سروں پر کپا (یہودی ٹوپی) پہن کر بلا خوف و خطر گھوم سکیں گے لیکن پیرس، لندن اور روم میں ایسا نہیں کر سکتے۔’دوسری جنگ عظیم کے بعد یہودی جتنا اپنے آپ کو کو محفوظ تصور کرتے تھے اب ایسا نہیں کرتے۔ یہ بھید ہم سب کو حیران کرتا ہے۔‘

پچھلے برس پچاس ہزار لوگوں نے فرانس سے اسرائیل منتقلی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

پیرس میں ہلاک ہونے والے چار یہودیوں کو اسرائیل میں دفنایا جا رہا ہے لیکن فرانس سے یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کے رجحان کو روکنے یا اسے کم کرنے کی سعی ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔