یمن کا دائرے میں سفر

- مصنف, پی جے کراؤلے
- عہدہ, سابق امریکہ نائب سکریٹری خارجہ
چاہے جو بھی کہیں، عرب بہار کی چوتھی سالگرہ کے آتے ہی یمن کی حکومت نے حوثیوں کی بغاوت کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے، اس طرح صرف تیونس ہی ایک ایسا علاقائی ملک باقی رہ جاتا ہے جو تکثیری گورننس کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یمن جہاں سے چلا تھا وہیں واپس آ گیا ہے۔
یمنی صدرعبدو رابہ منصور ہادی کی حکومت کا زوال کئی سطح پر ایک بری خبر ہے۔
مغربی میڈیا میں شائع ہونے والی شہ سرخیوں میں جن باتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ان میں یہ سوال کہ اس کا مطلب جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیے کیا ہو سکتا ہے، جو یہاں کے لیے خطرہ ہے یا اس کا مطلب ایران کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے عزائم کے لیے کیا ہے۔
یہ اہم سوال ہیں۔
یقیناً پیرس میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں ملوث افراد کی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ (اے کیو اے پی) کے ساتھ شناخت کے بعد تشویش جائز ہے کہ اے کیو اے پی اس ممکنہ افراتفری کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
اگر حوثی کئی ماہ سے حکومت سے برسرِپیکار ہیں تو وہ القاعدہ سے بھی لڑ رہے ہیں۔ شاید مغرب کے لیے یہ واحد دلچسپی کی بات ہے۔
نہ تو حوثی یمن میں امریکی پالیسی سے مسحور ہیں اور نہ ہی ڈرونز سے۔ پھر بھی پیر کو ہونے والے ڈرون حملے، جس میں القاعدہ کے تین رکن ہلاک ہو گئے تھے، وہ بھی اس کی ممکنہ قدر کا اعتراف کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن دشمن کے دشمن والی مثال بس یہیں تک ہی صادق آتی ہے۔
جس طرح حوثی حالیہ مہینوں میں نسبتاً آرام سے مضبوط ہوئے اور دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال کر ملک کے بادشاہ گر بن گئے یہ یمن کے بنیادی حمایتی امریکہ اور سعودی عرب کے لیے بغیر کسی شک کے تشویش ناک بات ہے۔
صدر براک اوباما کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے تحت امریکہ یمنی فوج کو تربیت دے رہا ہے جس کو کچھ ماہ پہلے ایک ’ماڈل‘ کہا گیا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ سچ بھی ہو لیکن صاف ظاہر ہے کہ اس ماڈل پر ابھی کام ہو رہا ہے۔
سعودی عرب نے یمن کو اربوں ڈالر دیے ہیں تاکہ سنی اکثریت کی شیعہ اقلیت پر سیاسی فضیلت رہے۔ لیکن حوثی تو شیعہ زیدی ہیں۔
بظاہر حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ ان کی ڈرامائی ترقی سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ یمن میں کوئی بھی حکمتِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو گی جب تک ایران کو شامل نہیں کیا جاتا۔
اوباما انتظامیہ بہت احتیاط سے چل رہی ہے اور کسی دوسرے مسئلے کو ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں حائل ہونے نہیں دے رہی۔ لیکن اس کے لیے یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ حوثی اور ایرانی یمن میں کیا چاہتے ہیں اور انھیں کیا مل جائے تو وہ آرام سے لے لیں گے۔
لیکن سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یمن جو کہ خطے کا سب سے کمزور ملک ہے یہ حالیہ بحران سہہ لے گا؟
یہ بات سمجھنا اتنا آسان نہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کچھ عرصہ پہلے تک یمن دو ملک ہوا کرتا تھا۔ شمالی یمن اور جنوبی یمن۔ 1990 میں دو دہائیوں کی کوششوں کے بعد یہ ایک ہوا۔ یمن میں دیگر دوسری چیزوں کی طرح یہ جوڑ بھی نازک ہے۔
حوثیوں کی حادی حکومت سے لڑائی کی ممکنہ وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ یمن کے مشترکہ مستقبل کے قابلِ قبول طاقت کی تقسیم کے معاہدے کو درست طریقے سے نافذ کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔
حکومت آئین میں کچھ تبدیلیاں لانے کا سوچ رہی تھی جس سے یمن میں نیا وفاقی نظام قائم ہو جاتا۔ ہادی نے چھ وفاقی علاقے تجویز کیے جبکہ حوثیوں نے صرف دو۔ اصل سوال یہ تھا کہ کس طرح یمن کے توانائی کی شعبے سے آنے والی آمدنی کو تقسیم کیا جائے۔
حوثیوں نے 2011 میں علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف آنے والے انقلاب میں حصہ لیا تھا (علی عبداللہ اب حوثیوں کی حمایت کر رہے ہیں)۔ انھوں نے اس کے بعد ہونے والی نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس میں بھی حصہ لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حوثی مسئلے کا حل تو بننا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو مسئلے کا حل سمجھتے نہیں۔
کیونکہ دونوں فریق نہیں چاہتے کہ یمن دوبارہ تقسیم ہو جائے اور ایک اور چھوٹی خلافت کے راستے کھل جائیں، ابھی بھی ایک جامع سیاسی عمل ممکن ہے جس میں عبوری حکومت قائم کی جائے، آئینی ترامیم کی جائیں اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔
یمن میں پارلیمانی انتخابات آخری مرتبہ 2003 میں ہوئے تھے اور صدارتی انتخاب میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے۔
یہ بنیادی سے اقدامات بھی بہت مشکل ہیں۔ یمن کو مدد کی ضرورت ہے۔
صدر اوباما کا انڈیا سے سعودی عرب آنا اور سعودی شاہ عبداللہ کی وفات پر شاہی خاندان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تعزیت کرنا ایک اہم اشارہ ہے اور اس سے یہ موقع ملے گا کہ وہ نئے بادشاہ سلمان کے ساتھ یمن پر بھی بات کر لیں۔
دوسری طرف امریکہ کو بھی یمن میں اپنی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کو بدلنا ہو گا۔
اوباما انتظامیہ شاطرانہ طریقے سے کام کر رہی ہے۔ ڈرونز کا اپنا ایک کردار ہے لیکن یمن میں کامیابی کا راز اچھی گورننس اور اقتصادی ترقی ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے شام میں زیادہ بحران جمہوریت کا نہیں بلکہ اناج کا تھا، یمن میں بھی ایندھن میں سبسڈی کی وجہ سے حالیہ بحران شروع ہوا تھا۔
یمن کو دی جانے والی امریکی امداد زیادہ تر فوجی امداد ہے۔ برے لوگوں پر نظر رکھنا اہم ہے لیکن جس چیز کی یمن کو اشد ضرورت ہے وہ اقتصادی امداد ہے۔
اس کی معیشت جمود کا شکار ہے، یہ 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے اور یہاں پانی کم ہوتا جا رہا ہے۔
یمن کو امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے طویل مدتی کمٹمنٹ یا وابستگی کی ضرورت ہے۔
(پی جے کراؤلے سابق اسسٹنٹ سکریٹری خارجہ ہیں اور اب وہ دی جارج واشنگٹن یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ڈپلومیسی اینڈ گلوبل کمیونیکیشن میں پروفیسر آف پریکٹس اینڈ فیلو ہیں)







