یمن میں باغیوں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا

،تصویر کا ذریعہAP
یمن میں حکام کے مطابق حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا کے وسط میں واقع وزیراعطم کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔
حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق مسلح افراد نے محل کا محاصرہ کر لیا ہے جبکہ وزیراعظم اس وقت اندر موجود ہیں۔
اس سے پہلے پیر کو سرکاری سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان صدارتی محل کے قریب جھڑپوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ان جھڑپوں کے بعد سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان جنگ بندی ہو گئی تھی۔
ابھی تک وزیراعظم ہاؤس کے قریب کسی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی ہے اور بظاہر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی صبح صدارتی محل کے قریب اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب باغیوں نے صدارتی محل کے قریب اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق اس کے بعد محل کے قریبی گلیوں میں فوجیوں کو بھیجا گیا اور کئی گھنٹوں تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران یمن کی وزیرِ اطلاعات نادیہ السکاف نے کہا تھا کہ صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش کے باجود وہ بالکل محفوظ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پیر کو تازہ جھڑپیں باغیوں کی جانب سے صدر عبدالربوح منصور ہادی کے چیف آف سٹاف احمد کے اغوا کے دو دن بعد شروع ہوئی ہیں۔عواد بن مبارک اور ان کے دو محافظین کو صنعا کے مرکزی علاقے سے ہی سنیچر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر اور باغیوں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جانب سے کروائے گئے معاہدے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کارروائی کی ہے۔
باغیوں نے ایک بیان میں یمنی صدر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کو بچانے کے لیے ’خصوصی اقدامات‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گذشتہ سال ستمبر میں شیعہ حوثی باغیوں اور سنّی شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں کے بعد باغیوں اور حکومت نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔
حوثی قبائل کو حکومت سے معاہدے کی تحت صنعا سے پیچھے ہٹنا تھا لیکن انھوں نے دارالحکومت کے سنّی علاقوں میں اور مغربی یمن میں اپنے دائرہ کار اور کنٹرول کو مزید وسعت دے دی۔
صنعا کے بڑے علاقے پر اس وقت حوثی قبائل کا کنٹرول ہے۔ حوثی قبائلی سال 2004 سے سعودی عرب سے متصل صوبہ سادا میں زیادہ خودمختاری کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
جزیرہ نما عرب میں برسرپیکار القاعدہ نے جہاں گذشتہ چار سالوں میں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کی احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والی بےچینی اور افراتفری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے وہیں حوثی قبائل کی طرف سے بھی موجودہ صدر ہادی کی حکومت کو مزاحمت کا سامنا ہے۔







