یمن: حکومت مخالف جلوس پرحملہ، درجنوں ہلاک

صنعا میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصنعا میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے

یمن کے دارالحکومت صنعا میں شیعہ باغیوں کے حامیوں کے جلوس پر خود کش حملے میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت کیا گیا جب بڑی تعداد میں لوگ مظاہرے کے لیے تحریر اسکوائر پہنچے تھے۔

یہ مظاہرہ حوثیوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔

اس حملے کے بعد ایک اور خودکش حملہ حضرامات کے مشرقی علاقے میں ایک فوجی چوکی پر کیا گیا جس میں 20 سپاہی مارے گئے۔

یہ حملہ پچھلے ہفتے صنعا پر باغیوں کے قبضے کے بعد سے بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

صدر کی طرف سے نئی حکومت کے لیے نامزد کیے گئے امیدوار کو حوثیوں نے مسترد کر دیا تھا۔ حوثیوں کے مطابق یہ فیصلہ حکومت سے طے شدہ اس معاہدے کے مطابق ہومنا چاہیے تھا جس سے حکومت اور حوثیوں کے درمیان شدید لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔

فوجی چوکی پر کیے جانے والے حملے میں کم از کم بیس سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفوجی چوکی پر کیے جانے والے حملے میں کم از کم بیس سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں

دارالحکومت صنعا میں سنہ 2012 کے بعد یہ سب سے زیادہ پرتشدد حملہ تھا۔ واقعے کے شاہد ایک پولیس افسر نے روئٹرز کو بتایا کہ شہر کے مرکز میں تحریر اسکوائر پر ایک شخص جس نے دھماکہ خیز بیلٹ باندھا ہوا تھا حوثیوں کے ایک چیک پوائنٹ پر پہنچا اور خود کو بم سے اڑا دیا.

قریب واقع پولیس کے ہسپتال کے عملے نے فوری طور پر ڈاکٹروں کو درجنوں زخمیوں کی مدد کے لیے بلایا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے مظاہرے میں شریک چار بچوں کی لاشوں کی تصدیق کی اور ڈاکٹرروں نے تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حضرامات میں دھماکے کے نتیجے میں ایک ٹینک اور دو فوجی گاڑیاں اس وقت تباہی کا نشانہ بنیں جب ایک خودکش بمبار نےمکالا شہر سے باہر ایک چوکی کو بارود سے بھری کار سے اڑا دیا۔

کسی بھی گروہ نے اس کی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن حال ہی میں ایک جہادی گروپAQAP نے سنیوں کے دفاع میں حوثیوں پر حملے کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔