صنعا میں باغیوں کے محاصرے کے بعد صدر مستعفی

باغیوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنباغیوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر رکھا ہے

یمن کے دارالحکومت صنعا میں شیعہ حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد ملک کے صدر اور وزیراعظم نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مستعفیٰ ہونے والے صدر عبد ربہ منصور ہادی کے مطابق وہ باغیوں کی جانب سے امن معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے اپنے عہدے سے الگ ہو رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یمن کی پارلیمان نے ابھی تک وزیراعظم اور صدر کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق صدر ہادی نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔

’ہمیں معلوم ہوا کہ ہم اپنے ہدف حاصل نہیں کر سکتے جن کے لیے ہم نے بڑی مصیبت اور مایوسی برداشت کی تھی۔‘

ایک حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزرا احتجاجاً مستعفی ہو رہے ہیں کیونکہ باغیوں نے یمن کی سلامتی کو چیلنج کیا ہے اور ریاست کے اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب حوثی باغیوں نے صدر ہادی کے استعفے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملک میں حکمرانی کے لیے ایک کونسل تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حوثی باغیوں کے رہنما ابو المالک یوسف الفیسی نے کہا ہے کہ حکمراں کونسل میں حوثی بھی شامل ہوں گے۔

معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود باغی ابھی تک دارالحکومت صنعا کے اہم مقامات پر قابض ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمعاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود باغی ابھی تک دارالحکومت صنعا کے اہم مقامات پر قابض ہیں

اس سے پہلے جمعرات کو حوثی شیعہ باغی اور حکومت کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پا گیا تھا جس کے تحت باغیوں کو دارالحکومت سے انخلا کرنا تھا تاہم معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود وہ ابھی تک دارالحکومت صنعا کے اہم مقامات پر قابض ہیں۔

حکومت کے ساتھ معاہدے میں بظاہر باغیوں نے کئی رعایتیں حاصل کر لی تھیں۔ اس معاہدے سے قبل باغیوں نے صنعا میں دیگر اہم مقامات کے علاوہ صدر منصور ہادی کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا اور صدارتی محل پر بھی قابض ہو چکے تھے۔

اس کے بعد بدھ کو صدر ہادی باغیوں کو ملک میں ایک بڑا سیاسی کردار دینے پر رضامند ہو گئے تھے، جس کے جواب میں باغیوں نے کہا تھا کہ وہ اہم سرکاری مقامات سے ہٹ جائیں گے اور صدر کے چیف آف سٹاف کو بھی رہا کر دیں گے جنھیں انھوں نے سنیچر کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس حوالے سے سرکاری خبر رساں ادارے صبا نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ صدر حوثیوں کو پارلیمان اور دیگر سرکاری اداروں میں نمائندگی دینے پر رضامند ہو گئے تھے۔

اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق انصاراللہ کے نام سے پہچانے جانے والے حوثیوں نے دارالحکومت میں ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا ہواہے، اس کے علاوہ انھوں نے وزیرِاعظم خالد بہا کی رہائش گاہ کو بھی گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ جزیرہ نما عرب میں برسرپیکار القاعدہ نے جہاں گذشتہ چار سالوں میں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کی احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والی بےچینی اور افراتفری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، وہیں حوثی قبائل کی طرف سے بھی موجودہ صدر ہادی کی حکومت کو مسلسل مزاحمت کا سامنا ہے۔