یمن: کار بم دھماکے میں 33 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
یمن میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں پولیس اکیڈمی کے قریب ایک کار بم دھماکے میں 33 افراد ہلاک جب کہ 62 زخمی ہو گئے ہیں۔
دھماکہ اس وقت ہوا جب درجنوں کیڈٹ اور دوسرے لوگ اکیڈمی جانے کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر اپنے نام لکھوا رہے تھے۔
غیر تصدیق شدہ رپورٹوں کے مطابق یہ خودکش بم دھماکہ تھا۔
ابھی تک کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن القاعدہ کی ایک شاخ ماضی میں اس طرح کے حملے کرتی رہی ہے۔
القاعدہ اور شیعہ حوثی قبائل کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جاری لڑائی کے باعث یمن میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا پر اس وقت حوثی قبائل کا کنٹرول ہے۔
بدھ کی صبح ہونے والا بم دھماکہ وزارت دفاع اور مرکزی بینک کی عمارات کے قریب ہوا۔ حکام کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والوں میں پولیس کے کیڈٹوں کے علاوہ عام لوگ بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
عینی شاہد جمیل الخالدی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب پولیس کالج کے کلاس فیلوز اکٹھے ہو رہے تھے کہ اچانک ہمارے قریب دھماکہ ہو گیا۔‘
طبی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق دھماکے کے بعد کے حالات تباہ کن تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو نعشیں ایک دوسرے پر پڑی ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یمن میں امریکی سفارت خانے نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ واقعہ یمن کی دہشت گرد تنظیموں کی ’فتنہ انگیزی‘ اور ’سیاہ کاری‘ کو آشکار کرتا ہے۔
کمزور یمنی حکومت
گذشتہ چار سالوں میں جزیرہ نما عرب میں برسرپیکار القاعدہ نے حکومتی سکیورٹی فورسز کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ 2012 میں ایک فوجی پریڈ پر کیے گئے حملے میں 90 جب کہ فوجی ہسپتال پر حملے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جہادی گروپ نے یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کی احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والی بےچینی اور افراتفری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
ان کے بعد آنے والے صدر منصور ہادی نے القاعدہ کے ٹھکانوں میں ان کے خلاف فوجی کارروائیاں تو کیں لیکن دہشت گرد گروپ کے ارکان دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں روپوش ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
ان علاقوں میں انھیں مقامی قبائل نے پناہ دی۔
شیعہ حوثی قبائل کی طرف سے بھی صدر ہادی کی حکومت کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ ستمبر میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا میں سکیورٹی فورسز کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔
حوثی قبائل کو حکومت سے معاہدے کی تحت صنعا سے پیچھے ہٹنا تھا لیکن انھوں نے مرکزی اور مغربی یمن میں اپنے دائرہ کار اور کنٹرول کو مزید وسعت دے دی۔







