یمن کی سکیورٹی امریکہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, نامہ نگار برائے سکیورٹی امور، بی بی سی نیوز
یمن کے دارالحکومت صنعا میں شیعہ حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد ملک کے صدر اور وزیراعظم نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یمن کی فوج اس صورتِ حال کے بعد ختم ہو گئی ہے تاہم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سنی قبائل شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
اس تمام فریم ورک میں واشنگٹن کے لیے سب سے اہم بات اس خطے میں اس کے اتحادیوں کی سکیورٹی ہے جسے اس وقت خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
واشنگٹن اور مغرب کے لیے یمن کی صورتِ حال اتنی اہم کیوں ہے، حالانکہ یمن کویت نہیں ہے۔ یمن امیر ملک نہیں ہے، حقیقت میں وہ عرب دنیا کا سب سے غریب ملک ہے۔
اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ یمن کے تیل کی برآمدات سنہ 2020 سے پہلے ختم ہو جائیں گی۔
یمن جزیرہ نما عرب میں جنوب مشرق میں واقع ہے جس کے دائیں جانب باب المندب ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو افریقہ سے جدا کرتا ہے۔
اندازوں کے مطابق سالانہ 20,000 بحری جہاز بحرِ ہند اور بحیرہ احمر سے گزرتے ہیں۔
یمن کا دوسرا شہر عدن کبھی بحری جہازوں کی بڑی بندر گاہ ہوا کرتا تھا جو یورپ سے بھارت کے لیے ایک بڑا راستہ فراہم کرتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم افسوس کی بات ہے کہ آج یہ شہر کھڑے پانی میں ایسے سو رہا ہے جیسے خانہ بدوش پرندہ ویرانی میں موجود گرد پر گزر بسر کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سنہ 2000 میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کی جانب سے امریکی بحری جہاز یو ایس کول پر کیے جانے والے خود کش حملے کے بعد امریکی نیوی نے خاص طور پر اس راستے کو منتخب کرنے سے اجتناب برتا۔
یمنی باشندوں کے لیے سب سے بڑا لمحۂ فکر بد عنوانی سے متاثرہ ان کے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت ہے۔ تاہم واشنگٹن کے لیے یمن کے دارالحکومت صنعا میں شیعہ حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد صورتِ حال مختلف ہے۔
مغرب کے انٹیلی جنس تجزیہ کار یمن کو شدت پسند تنظیم القاعدہ کی فرینچائز سمجھتے ہیں۔
یمن میں سنہ 2009 میں یمنی اور سعودی اسلامی شدت پسندوں کے درمیان ایک اتحاد تشکیل دیا اور اسے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ (اے کیو اے پی) کا نام دیا گیا۔
اس اتحاد کا بنیادی نقطۂ نظر یمن کے قبائلی علاقوں کے علاوہ مریب، البیدا اور شبوا صوبوں پر قبضہ کرنا تھا۔
یہ اتحاد یمن کے دارالحکومت صنعا میں اپنے خود کش بمباروں بھیجتا تھا اور جو یمن کی پولیس اور دوسرے سکیورٹی حکام کو نشانہ بناتے تھے۔
یہ خود کش بمبار یمن کے انٹیلی جنس حکام کو اغوا اور قتل کرنے کے ذمہ دار تھے اور اس مقصد کے لیے بعض اوقات موٹر سائیکلوں کا استعمال کرتے تھے۔
تاہم اے کیو اے پی نے اپنی بین القوامی پہنچ کی وجہ سے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور پینٹاگان کے خصوصی آپریشنز کمانڈ کی توجہ حاصل کر لی۔
اے کیو اے پی نے اس ماہ کے شروع میں پیرس کے معروف رسالے چارلی ایبڈو پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی تاہم وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
ان تمام باتوں کے باوجود اے کیو اے پی اب تک تین بار بین الاقوامی پروازوں کے ذریعے بم سمگل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سعودی عرب میں کام کرنے والے القاعدہ کے ایک شدت پسند نے سمگل کیے جانے والے ان تین میں سے ایک بم کو سنہ 2009 میں استعمال کیا تاہم اس حملے میں سعودی عرب کے انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ بال بال بچ گئے۔
سنہ 2009 میں اے کیو اے پی نے نائجیریا کے ایک شہری کی مدد سے ایمسٹرڈیم سے ڈیٹروئٹ جانے والی پرواز کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تاہم وہ منصوبے میں ناکام رہے اور اس کوشش کے نتیجے میں وہ خود جل گئے۔
اے کیو اے پی نے سنہ 2010 میں یمن سے امریکہ جانے والے مال بردار جہاز پر بھیجے جانے والے ایک پیکٹ میں ایک کمپیوٹر پرنٹر کے کارٹرج میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جسے دبئی پولیس نے دبئی ایئرپورٹ سے برآمد کر لیا تھا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران یمنی حکومت کی انسدادِ دہشت کی استعداد کو بڑھانے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ کی خصوصی افواج خفیہ طور پر یمن کی فوج کو دارالحکومت صنعا میں تربیت فراہم کرتی رہی ہیں جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور یمن نے مشترکہ طور پر یمن میں شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔
یمن کے مقامی قبائل کا کہنا ہے کہ ان متنازع ڈرون حملوں میں اب تک درجنوں عام شہری مارے جا چکے ہیں۔.







