تل ابیب: فلسطینی شخص کا مسافروں پر چاقو سے حملہ، نو زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی پولیس نے وسطی تل ابیب میں نو افراد کو چاقو کے وار کر کے زخمی کرنے والے فلسطینی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے جو بدھ کو معارف پل پر پیش آیا۔
پولیس کے مطابق مقبوضہ غرب اردن کے قصبے تلکرم سے تعلق رکھنے والے حملہ آور نے بس کے اندر اور باہر دونوں جگہ پر لوگوں کو زخمی کیا۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق زخمیوں میں سے کم از کم دو لوگوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پولیس کی ایک ترجمان نے بتایا کہ 23 سالہ فلسطینی حملہ آور نے جائے حادثہ سے فرار ہونے کی کوشش کی اور اس دوران ایک اہلکار نے اس کے پیر میں گولی ماری جس سے وہ بھی زخمی ہو گیا۔
پولیس کی ترجمان میکی روزن فیلڈ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پولیس اس واقعے کو ’دہشت گرد حملے‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
تل ابیب کے پولیس کمانڈر بینزی ساؤ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بس میں سوار ہونے کے بعد حملہ آور نے پہلے ڈرائیور پر کئی وار کیے لیکن ڈرائیور نے زبردست مزاحمت کی جس سے حملہ آور نے پیدل فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اسے ایک محافظ نے قابو کر لیا۔‘
حملے کے بعد معارف پل کے آس پاس کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس اہلکار اس علاقے میں گشت کر رہے ہیں تاکہ مزید حملوں کو روکا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کے مطابق اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ چند ماہ میں فلسطینی باشندوں کی جانب سے اس قسم کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں وہ تنہا کارروائی کرتے ہیں اور ان کے پاس بہتر ہتھیار بھی نہیں ہوتے۔
اس سے قبل نومبر میں چاقو کے ایک حملے میں تل ابیب میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ ایک دوسرے واقعے میں ایک اسرائیلی خاتون کو مقبوضہ غرب اردن میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔







