اسرائیلی وزیرِخارجہ سے پولیس کی تفتیش

اویگڈور نے منگل کو اسرائیل کے نئے وزیرِ خارجہ کا حلف اٹھایا ہے
،تصویر کا کیپشناویگڈور نے منگل کو اسرائیل کے نئے وزیرِ خارجہ کا حلف اٹھایا ہے

اسرائیلی پولیس نے ملک کے نئے وزیرِ خارجہ اویگڈور لیبرمین سے کرپشن کے الزامات کے معاملے میں سات گھنٹے تک تفتیش کی ہے۔

پولیس کے مطابق اویگڈور لیبرمین سے ’رشوت ستانی، منی لانڈرنگ اور بھروسہ توڑنے کے شبہ میں پوچھ گچھ کی گئی جو کہ ایک پہلے سے جاری تفتیش کا حصہ تھی۔

اویگڈور لیبرمین ماضی میں بھی کسی غلط کام سے انکار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزامات سیاسی رقابت کا نتیجہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان الزامات کا تعلق لیبر مین کی بیٹی کی کمپنی سے ہے۔ اویگڈور لیبر مین کے ترجمان کے مطابق ’یہ گزشتہ تیرہ برس سے جاری تفتیش کا حصہ ہے جس کے بارے میں خود انہوں نے عدالتوں سے درخواست کی ہے کہ اسے تیز کیا جائے‘۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اویگڈور لیبر مین نے تفتیش کاروں سے مکمل تعاون کیا اور ان کے تمام سوالات کے جواب دیے۔

انتہائی دائیں باز کے نظریات کی حامل جماعت اسرائیل بیت نوہ سے تعلق رکھنے والے اویگڈور نے منگل کو اسرائیل کے وزیرِ خارجہ کا حلف اٹھایا ہے اور ان کی تقرری کو متنازعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ اسرائیل سنہ 2007 میں امریکی کوششوں کے نتیجے میں قیامِ امن کے لیے طے پانے والے معاہدے پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے۔ فلسطینی رہنماؤں نے بھی انہیں ’قیام امن میں رکاوٹ‘ قرار دیا ہے۔