ٹکر مار کر بھاگنے والے فرانسیسی ڈرائیور کو جیل بھیج دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس نے تل ابیب میں شراب کے نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے ایک اسرائیلی خاتون کو مار کر کے بھاگنے والے فرانسیسی شخص کو پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔
یہ واقعہ سنہ 2011 میں اس وقت پیش آیا تھا جب ایک 25 سالہ اسرائیلی خاتون لی زیتونی کو سٹرک پار کرتے ہوئے ایک گاڑی نے ٹکر مار دی تھی۔
اس واقعے کے بعد گاڑی کے ڈرائیور ایرک روبک اور ان کے ساتھی کلاڈ خیاط کے فرانس بھاگ جانے کے بعد اسرائیل میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
فرانس کی جانب سے ایرک روبک کو اسرائیل کے حوالے کرنے سے انکار کے بعد دونوں ممالک میں سفارتی تلخیاں پیدا ہو گئی تھیں۔
اسرائیل نے فرانس پر ایرک روبک کو اپنے حوالے کرنے کے لیے بہت دباؤ ڈالا جس کے بعد فرانس کے اس وقت کے صدر نکولس سرکوزی نے پیرس میں جاری اس مقدمے کی سماعت کے دوران مقتولہ کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم فرانس اپنے باشندوں کو یورپ سے باہر کسی ملک کے حوالے نہیں کرتا۔
اس مقدمے کے عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حادثے کے وقت گاڑی سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی تھی جبکہ اس علاقے میں گاڑی چلانے کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر تھی۔
فرانسیسی شہری ایرک روبک نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس رات نائٹ کلب سے واپس آ رہے تھے اورگاڑی چلاتے ہوئے وسکی اور ووڈکا پی رہے تھے اور ان کی گاڑی کی رفتار مقررہ حد سے زیادہ تھی۔
عدالت نے دونوں افراد کو مصیبت میں مبتلا کسی شخص کی مدد کرنے میں ناکامی کا مرتکب قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لی زیتونی کے والدین اس مقدمے کی سماعت کے بعد پیرس میں موجود تھے۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں افراد نے اس واقعے پر ان کے ساتھ معذرت کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر مطمئن ہیں۔







