دولتِ اسلامیہ نے امریکی فوج کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ’ہیک کر لیا‘

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے ایک گروہ نے امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا ہے۔

اسی اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے: ’امریکی فوجیو، ہم آ رہے ہیں، اپنے پیچھے نظر رکھو۔‘

گروہ نے اپنا نام آئی ایس آئی ایس بتایا ہے جو کہ دولتِ اسلامیہ ہی کا دوسرا نام ہے۔

نوجوان جہادیوں سے کیسے نمٹا جائےMAP35563681دولت اسلامیہ کیا ہے؟دولت اسلامیہ کیا ہے؟دولت اسلامیہ یا آئی ایس نے ایک طویل عرصے سے عراق اور شام کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے لیکن یہ گروپ کہاں سے آیا اور کیا چاہتا ہے؟ 2014-10-29T19:20:46+05:002014-10-29T19:34:05+05:002014-10-29T19:34:05+05:002014-12-03T21:52:23+05:00PUBLISHEDurtopcat2

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ اس پر ’مناسب اقدامات‘ کریں گے۔ یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ اس وقت ہیک کیا گیا ہے جب صدر براک اوباما سائبر سکیورٹی کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔

صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس حالیہ ہیک اور سونی پکچرز پر حملے ہمیں اس بات کی یاددہانی کراتے ہیں کہ ہمارے لیے بطورِ قوم اور بطورِ معیشت بہت بڑی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔‘

ان کے ترجمان جاش ارنسٹ نے کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی چوری اور ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہونے میں بڑا فرق ہے۔

پوسٹ کی گئی دستاویزات میں سے کچھ میں فوجی اہلکاروں کے نام اور فون نمبر ہیں جبکہ کچھ میں پاور پوائنٹ سلائیڈیں اور نقشے بھی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا یوٹیوب اکاؤنٹ بھی ہیک کر لیا گیا ہے۔

پینٹاگون کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ہیکنگ خجالت تو ضرور ہے لیکن اس سے سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر وڈورڈ نے بی بی سی کو بتایا: ’میں یہ نہیں کہوں گا یہ بات معمولی ہے، لیکن یہ ایک لغزش ہے۔ عام طور پر کسی ادارے میں ٹوئٹر اکاؤنٹ کوئی ایک شخص چلاتا ہے، اور کسی کو اپنا پاس ورڈ دینا بہت آسان سی بات ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہ کوئی حساس یا خفیہ معلومات تک رسائی والا ہیک نہیں ہے۔ بس ایک فرد نے معمولی سی غلطی کی ہے۔‘

امریکی اور اتحادی جنگی جہاز عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔