کیرالہ سٹوری 2 کی نمائش کے دوران سنیما ہال میں حلف لینے کا تنازع: ’سبزی لیں یا بال کٹوائیں، سب ہندوؤں سے کروائیں‘

- مصنف, الپیش کرکرے
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو ’ہندو جاگرن منچ‘ نامی ایک تنظیم نے انڈین ریاست مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے ایک مال میں ’کیرالہ سٹوری 2‘ کی نمائش کا اہتمام کیا۔
فلم کی نمائش کے اختتام پر سینما ہال میں موجود لوگوں سے یہ حلف لیا گیا کہ وہ ’ہندوؤں کے علاوہ کسی سے تعلقات نہیں رکھیں گے اور غیر ہندوؤں سے دوستی نہیں کریں گے۔‘
اس حلف کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان ویڈیوز میں کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی کسی دوسری کمیونٹی کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
فلم دیکھنے آنے والوں سے یہ عہد بھی لیا گیا کہ ’اگر آپ سبزی خریدیں تو ہندوؤں سے خریدیں اور اگر آپ اپنے بال کٹوائیں تو وہ بھی ہندوؤں سے کٹوائیں۔‘
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے اسے ایک ایسا اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد دو برادریوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا اور ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔
کانگریس لیڈر حسین دلوائی کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے اور ازخود کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ ’نفرت پھیلانا ایک سنگین جرم ہے۔‘
ایک مقامی پولیس افسر نے بتایا کہ اس واقعے کے حوالے سے کسی نے کوئی شکایت درج نہیں کروائی ہے۔
فلم کی نمائش کے موقع پر ہندو جاگرن منچ کے عہدیداروں نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کئی جگہوں پر ہندوؤں پر بعض برادریوں کی طرف سے حملہ کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlpesh Karkare
فلم دیکھنے آنے والے کیا کہتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں فلم دیکھنے کے لیے آئی کچھ خواتین کا ردعمل دیکھا جا سکتا ہے۔
ان خواتین کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اپنے مذہبی رسومات کے مطابق تعلیم دینی چاہیے اور انھیں دوسرے مذاہب کے لوگوں سے دوستی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انھیں اپنے مذہب کی پیروی کرنا سکھانا چاہیے۔‘
ہندو جاگرن منچ کے کارکنوں نے دعویٰ کیا، ’جھوٹے نام رکھ کر اور ہندو ہونے کا بہانہ بنا کر دوستیاں کی جاتی ہیں اور لڑکیاں اس جال میں پھنس رہی ہیں۔ اس لیے سب کو ہوشیار رہنا چاہیے اور اجنبیوں سے دوستی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے محبت ہونے بلکہ شادی تک کا بھی امکان ہے۔‘
’یہ دو برادریوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے اس واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا اسے دو برادریوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کوشش اور ملک کے آئین سے نفی قرار دیا ہے۔
مولانا آزاد وچار منچ کے صدر اور سابق وزیر حسین دلوائی کہتے ہیں، ’ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا غلط ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ یہ حکومت ایسی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ یہ حکومت خود ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔‘
دلوائی کہتے ہیں، ’یہ واقعہ ہمارے آئین کے خلاف ہے۔ پولیس کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے اور اپنے طور پر کارروائی کرنی چاہیے۔ نفرت پھیلانا ایک سنگین جرم ہے۔‘
بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے کانگریس مہاراشٹر کے نائب صدر اور سابق ایم ایل اے مظفر حسین نے کہا کہ ’کسی بھی برادری کے خلاف اس طرح کا حلف اٹھانا غلط ہے۔ اس کا ملک کے آئین سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اپنے عمل سے ان تمام لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو نہیں مانتے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ، ’ملک میں امن و امان باقی نہیں رہا۔ پانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد سے دائیں بازو کے لوگ ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے کیرالہ اور دیگر ریاستوں میں انتخابات قریب آرہے ہیں، اس طرح کی فلمیں بنا کر نفرتیں پھیلائی جا رہی ہے۔‘
انڈیا کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں کانگریس کے ایم پی ڈاکٹر سید ناصر حسین نے سوشل میڈیا پر واقعے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ، ’اطلاع ہے کہ 10 مارچ کو پالگھر کے وسائی میں فلم ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کی مفت نمائش کے بعد حاضرین نے مسلمانوں کا معاشی اور سماجی طور پر بائیکاٹ کرنے کا اجتماعی حلف لیا۔

،تصویر کا ذریعہAlpesh Karkare
انھوں نے الزام لگایا، ’بی جے پی حکومت کے تحت غلط معلومات کے مسلسل پروپیگنڈہ سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف برادریوں کے درمیان دوری بڑھی ہے۔ جب سنیما کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر پوری کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، تو اس بات کا خطرہ ہے کہ تعصب منظم تفریق میں بدل جائے گا اور مسلم مخالف جذبات کو تقویت ملے گی۔‘
’انڈیا کی جمہوری اقدار سیکولرازم، مساوات اور بھائی چارے پر قائم ہے۔ کسی بھی کمیونٹی کے معاشی یا سماجی بائیکاٹ کے مطالبات انڈیا کے آئین کی بنیاد پر ایک دھبہ ہیں۔ ہماری جمہوریت کی تکثیری اور جامع نوعیت کو برقرار رکھنے کے لیے انھیں سختی سے رد کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ہندو جاگرن منچ اور پولیس کا موقف
ہندو جاگرن منچ کے کنوینر راکیش جوشی نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا، ’ہم نے اس فلم کی نمائش کا اہتمام انڈیا میں ہندوؤں کے خلاف ہونے والے مظالم، اجتماعی تبدیلی مذہب اور ہندو برادری میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کیا تھا۔‘
’کچھ لوگ ہم پر انتخابی مہم چلانے اور نفرت پھیلانے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ہمارا بنیادی مقصد مذہب کی تبدیلی اور ہندوؤں کے خلاف مظالم کو روکنا ہے۔ ہمارے پروگرام کے بارے میں کسی نے شکایت نہیں کی۔‘
اس واقعے کے بارے میں پوچھے جانے پر سینیئر پولیس انسپکٹر سوجیت کمار پوار نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا، ’اس سلسلے میں اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر کسی کو کچھ کہنا ہے، تو براہ کرم ہمارے پاس آئیں۔‘












