’میرا نام شالنی تھا، اب میں فاطمہ ہوں‘: دولت اسلامیہ میں انڈین خواتین کے موضوع پر بننے والی فلم پر تنازع

’دی کیرالہ سٹوری‘

،تصویر کا ذریعہSUNSHINE PICTURES / YOUTUBE

،تصویر کا کیپشن’دی کیرالہ سٹوری‘ فلم کا ٹیزر انڈیا میں تنازعے کا سبب بن گیا ہے
    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں پولیس نے ایک فلم کے ٹیزر کے بارے میں موصول ہونے والی شکایتوں کے بعد قانونی ماہرین سے رابطہ کیا ہے کیونکہ اس ٹیزر کی وجہ سے ریاست میں تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

نئی فلم ’دی کیرالہ سٹوری‘ کے اس ٹیزر کے بارے میں ایک اداکارہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک کردار ریاست کی ان 32,000 خواتین میں سے ایک ہے جنھیں ’اسلامی دہشت گرد‘ بنا دیا گیا تھا۔

ریاست کے کچھ سیاستدانوں نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک صحافی نے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اس کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے دفتر نے صحافی بی آر اروندکاشن کی جانب سے لکھا گیا یہ خط پولیس کو مزید تفتیش کے لیے بھیج دیا ہے۔

کیرالہ کے دارالحکومت تھروننتا پورم کے پولیس کمشنر سپرجن کمار نے کہا کہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور خط پر قانونی رائے مانگی گئی ہے کہ اس سلسلے میں کیا کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔‘

ٹیزر میں ایک برقع پوش خاتون یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ’میرا نام شالنی اننی کرشنن تھا اور میں نرس بننا چاہتی تھی۔‘

’اب میں فاطمہ ہوں، دولت اسلامیہ کی دہشت گرد ہوں اور افغانستان کی ایک جیل میں ہوں۔‘

وہ لڑکی مزید کہتی ہے کہ ’میرے جیسی 32 ہزار لڑکیاں ہیں جنھیں شام اور یمن کے صحراؤں میں دفن کیا گیا ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وہ مزید کہتی ہے کہ ’کیرالہ میں عام لڑکیوں کو خوفناک دہشت گردوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جان لیوا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور وہ بھی کھلے عام۔‘

ٹیزر کو گذشتہ چھ دنوں میں یوٹیوب پر 440,000 سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے اور اس پر تنقید بھی ہو رہی ہے اور بعض لوگ اس تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ اداکارہ ادا شرما نے ’ٹرو سٹوری ہیش ٹیگ‘ کے ساتھ فلم کا ٹیزر ٹویٹ کیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر وپل شاہ نے بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

صحافی ںامسٹر اروندکشن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے تحقیقات کے ساتھ ساتھ فلم سازوں سے ثبوت پیش کرنے کو کہا ہے کیونکہ وہ ٹیزر میں کیے گئے دعووں سے نالاں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ کیسز ہو سکتے ہیں لیکن 32 ہزار ایک ناقابل یقین تعداد ہے۔‘

ایک میڈیا پروڈکشن کمپنی ِ’سٹی میڈیا‘ کے ساتھ 2021 کے انٹرویو میں فلم کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کی جانب سے کیرالہ اسمبلی کو دیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی یہ تعداد دی گئی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر چانڈی نے کہا تھا کہ ’ہر سال تقریباً 2,800 سے 3,200 لڑکیاں اسلام قبول کر رہی ہیں۔‘

تاہم، حقائق کی جانچ کرنے والی نیوز ویب سائٹ آلٹ نیوز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اس دعوے کو درست قرار دینے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے‘۔

ویب سائٹ نے پتہ لگایا کہ مسٹر چانڈی نے 2012 میں کہا تھا کہ ریاست میں 2006 سے اب تک 2,667 نوجوان خواتین نے اسلام قبول کیا ہے تاہم کسی طرح کی سالانہ تعداد کا ذکر نہیں کیا تھا۔

سنہ 2016 میں، کیرالہ کے 21 افراد کے ایک گروپ نے جہادی عسکریت پسند گروپ اسلامک سٹیٹ میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ان میں سے ایک طالب علم نے شادی کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ جب انھوں نے ملک چھوڑا تو وہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ سنہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، انڈین حکام نے بتایا کہ کیرالہ سے تعلق رکھنے والی چار خواتین جو دولت اسلامیہ میں میں شامل ہو ہوئی تھیں وہاں مقید ہیں۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حقائق اور ریکارڈ چیک کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ ایسی خواتین کی تعداد دس یا پندرہ سے زیادہ نہیں جو 2016 سے اب تک کیرالہ سے دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے مذہب تبدیل کر کے ملک چھوڑ چکی ہیں۔‘

مسٹر اروندکشن کا کہنا ہے کہ انھوں نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن، ریاستی فلم سرٹیفیکیشن بورڈز کے ساتھ ساتھ انڈیا کے وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر کو بھی خط لکھا ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

انھوں نے کہا کہ یہ فلم انڈیا کے اتحاد اور خودمختاری کے خلاف ہے اور انڈیا کی تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ساکھ کو داغدار کرتی ہے۔

فلم کے ٹیزر نے کیرالہ میں بھی ایک سیاسی تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے لیڈر وی ڈی ساتھیسن نے کہا ہے کہ ’یہ غلط معلومات یا جھوٹ پھیلانے کا واضح معاملہ ہے‘ اور دعویٰ کیا کہ یہ فلم ’کیرالہ کی شبیہ کو خراب کرنے‘ اور ’لوگوں میں نفرت پھیلانے‘ کے لیے بنائی گئی ہے۔

کیرالہ کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے قانون ساز جان برٹاس نے بدھ کے روز وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا جس میں ان سے فلم سازوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کے سریندرننے فلم سازوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر کیرالہ حکومت کی تنقید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ میں کیرالہ میں دولت اسلامیہ میں بھرتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔‘