’داعش ایک سفاک اور مضبوط فورس ہے‘

،تصویر کا ذریعہ
ایک جرمن مصنف نے، جسے داعش کے کنٹرول والے علاقوں تک رسائی دی گئی تھی، بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ ان کی توقع سے بہت زیادہ مضبوط، سفاک اور مقابلے کے لیے ایک مشکل گروہ ہے۔
جورگن ٹوڈنہوئفر نے عراق کے شہر موصل میں چھ دن گزارے تھے۔ وہ وہاں شام کے شہر رقہ سے وہاں پہنچے تھے۔
ٹوڈنہوئفر نے کہا کہ انھوں نے داعش کے حمایتیوں کو بہت زیادہ پر عزم پایا جو گروہ کی سفاکانہ کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
دولت اسلامیہ کیا ہے؟ دیکھیے خصوصی ویڈیو رپورٹ
انھوں نے کہا کہ جنگجوؤں کے مختلف مقامات پر پھیلے ہونے کی وجہ سے انھیں فضائی حملوں میں نشانہ بنانا بھی آسان نہیں ہے۔
سابق جرمن سیاست دان جورگن ٹوڈنہوئفر گروہ کے باہر کے واحد شخص ہیں جو داعش کے علاقوں میں دور تک جا کر واپس آئے ہیں۔ یہ انھوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کیا کیونکہ حال ہی میں وہاں کئی مغربی باشندوں کے سر قلم کیے جا چکے ہیں۔
موصل میں انھوں نے دیکھا کہ گروہ کس طرح انتہا پسند سنی اسلام کو لوگوں پر مسلط کر رہا ہے۔
دیواروں پر چسپاں پوسٹر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ نماز پڑھنے کا درست طریقہ کیا ہے اور کس طرح عورتوں نے اپنے آپ کو ڈھانپنا ہے۔
’مثال کے طور پر وہ اس طرح کے کپڑے نہ پہنیں جو کافر مرد اور عورتیں پہنتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اشتہارات پر سے شبیہیں مٹا دی گئی ہیں اور کتابوں کی دکانوں پر مذہبی قواعد کے متعلق پمفلٹ اور کتابیں نظر آتی ہیں جن میں ایسے موضوعات پر کتابیں شامل ہیں کہ غلاموں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کی ملاقات جنگجو بچوں سے بھی ہوئی جنھوں نے خلافت کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ برطانیہ، امریکہ، سویڈن، ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو کے علاوہ دنیا بھر سے داعش میں شامل ہونے کے لیے آئے ہوئے نوجوانوں سے ہوئی۔
ٹوڈنہوئفر کہتے ہیں کہ وہ ان کے سفاکانہ جوش، ’مذہبی صفائی‘ اور علاقوں کو وسیع کرنے کے جنون کے پیمانے کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔
’میں نے کبھی بھی جنگ زدہ علاقوں میں ایسا جوش و خروش نہیں دیکھا۔‘
’انھیں اپنے آپ پر مکمل اعتماد ہے۔ سال کے آغاز میں داعش کو بہت کم لوگ جانتے تھے، اب انھوں نے برطانیہ کے برابر کا علاقہ فتح کر لیا ہے۔ یہ ایسی تحریک ہے جس میں جوہری بم اور سونامی جتنی طاقت ہے۔‘
اس کی فلم ان کے بیٹے نے بنائی۔ ان دونوں کو حفاظت کی ضمانت دی گئی تھی۔ ان کے مواد سے یہ لگتا ہے کہ گروہ اتحادیوں کے فضائی حملوں سے تقریباً لا تعلق اپنا حکومتی نظام تشکیل دینے میں مگن ہے۔
ٹوڈنہوئفر نےکہا کہ ’مجھے لگتا تھا کہ وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ داعش کام کر رہی ہے۔‘
’بظاہر میری توقع کے برعکس لگتا تھا کہ زندگی معمول کے مطابق ہے لیکن شہر کی تمام شیعہ اور عیسائی آبادی داعش کے جنگجوؤں کے ڈر سے وہاں سے بھاگ چکی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جہادیوں کا اب عدل کا اپنا نظام ہے، اور عدالتوں میں داعش کے جھنڈے لہرا رہے ہیں، ان کی اپنی پولیس ہے جو سخت اسلامی قوانین نافذ کروا رہی ہے۔
ٹوڈنہوئفر کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ خوف کی وجہ سے بہت سی چیزیں خود بخود رک جاتی ہیں۔
ٹوڈنہوئفر اب بحفاظت جرمنی کے شہر میونخ واپس پہنچ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں اس سے زیادہ سفاک اور خطرناک دشمن نہیں دیکھا۔
وہ کہتے ہیں کہ صرف عرب ہی داعش کو روک سکتے ہیں: ’میں وہاں سے بہت مایوس واپس آیا ہوں۔‘
ٹوڈنہوئفر بہت خوش قسمت ہیں کہ وہ واپس آ گئے، اگرچہ انھیں ایک جرمن جہادی کے ذریعے رسائی کے لیے کئی ماہ مذاکرات کرنے پڑے۔
بالآخر انھیں ’خلیفہ کے دفتر‘ سے اجازت نامہ جاری کیا گیا جس نےکئی مواقع پر ان کی حفاظت کی۔
’مجھے کئی مرتبہ یہ تشویش ہوئی کہ کہیں وہ اپنا ارادہ ہی نہ بدل لیں۔‘
آخر میں وہ اور ان کا بیٹا بھاگ کر ترکی کی سرحد کے اندر داخل ہو گئے۔ ’میں اپنے بستوں اور دیگر سامان کے ساتھ ایک کلومیٹر تک بھاگا۔‘







