داعش کے جنگجوؤں نے 50 خواتین اور مردوں کو گولی مار دی

دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے عراق کے مشرقی صوبے انبار میں ایک قبیلے کے پچاس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق البونمر قبیلے کے مردوں اور عورتوں کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤ ں کی مخالفت کرنے کی پاداش میں قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار دی گئیں۔

اس قبیلے کے متعدد افراد کی لاشیں ایک اجتماعی قبر سے اس ہفتے کے اوائل میں برآمد ہوئی تھیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو عراق اور شام کے ایک وسیع علاقے پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔

<link type="page"><caption> دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ دیکھیے قندیل شام کی رپورٹ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2014/10/141030_explain_is_new_qs.shtml" platform="highweb"/></link>

دریں اثنا فرانسیسی خبر رساں ادارے نے سیرین آبزویٹری گروپ کے حوالےسے اطلاع دی ہے کہ شام کی سرحد کے قریب کوبانی کے شہر میں گزشتہ تین دن کی لڑائی میں داعش کے سو سے زیادہ جنگجو ہلاک ہو گئِے ہیں۔

جمعہ کے روز کرد پیشمرگا کے ڈیڑھ سو کے قریب سپاہی ترکی کی سرحد عبور کر کے کوبانی میں داعش کے جنگجوؤں سے گزشتہ چھ ماہ سے نبرد آزما شامی کردوں میں شامل ہوگئے۔

سیرین آبزویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ کوبانی میں لڑائی میں اب تک 950 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے نصف داعش کے جنگجو تھے۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سنی قبائلیوں اور ان کی خواتین کو جمعہ کو راس الما کے گاؤں میں ہلاک کیا گیا۔

البونمر قبیلے کے لوگوں نے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف شیعہ اکثریتی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس طرح کے اور بھی واقعات ہوئے ہیں کیونکہ مقامی قبائل کی وفاداریاں حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ داعش لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اس طرح کا قتل عام کر رہی ہے۔

ایک اور مقامی اہلکار صبا خروت نے کہا کہ انبار کے صوبے میں رونما ہونے والا واقع انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ داعش کے خلاف برسرپیکار سنی قبائل کی مدد کریں۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا کہ سنی قبائل کا قتل عام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ’ہم کتنی خوفناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔‘