’دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی حملے ناکام ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس اتحادیوں کے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائیاں غیر موثر ہیں اور شدت پسند گروہ ان حملوں سےکوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے ستمبر 2014 میں دولت اسلامیہ کے خلاف اس وقت فضائی کارروائیاں شروع کر تھیں جب دولت اسلامیہ کے جنجگوؤں نےعراقی افواج کو روندتے ہوئے شمالی عراق کے بڑے حصے پر قابض ہوگئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر دولت اسلامیہ کے جنجگوؤں کو پیش قدمی اسی طرح جاری رہی تو وہ جلد ہی بغداد تک پہنچ جائیں گے۔
امریکہ اور اس کےاتحادی ممالک گذشتہ دو ماہ میں دولت اسلامیہ کےخلاف 300 سے زیادہ فضائی کارروائیاں کر چکے ہیں۔
شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے لبنانی ٹی وی المعایدین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دولت اسلامیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے ترکی کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سرحد کی کڑی نگرانی کرے اور دولت اسلامیہ کی مدد کو آنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کو شام میں داخل ہونے سے روکے۔
دولت اسلامیہ کا شام اور عراق کے بڑے حصوں پر قبضہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بی بی سی کے جم میوئر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائیوں سے اتنا فرق پڑا ہے کہ ان کی پیشقدمی رک گئی ہے اور مزید علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شام کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ فضائی حملے شروع ہونے سے پہلے اور بعد کی دولت اسلامیہ کی طاقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ ترکی کو اپنی سرحدوں سے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو شام میں گھسنے سے نہیں باز رکھ سکتی تو پھر فضائی حملوں سے دولت اسلامیہ کو کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ترکی کی شام کے ساتھ 560 میل لمبی سرحد ہے۔
ترکی نےہمیشہ تردید کی ہے کہ وہ بشار الاسد مخالف جنگجوؤں کی مدد کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا شام کی حکومت نے گذشتہ چھ ہفتوں سے باغیوں کے خلاف فضائی طاقت کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔
شام نے پچھلے چھ ہفتوں میں دولت اسلامیہ اور دوسرے شدت پسند گروہوں کے خلاف دو ہزار فضائی حملے کیے ہیں۔
ان میں سے بعض حملے دولت اسلامیہ کے مرکز رقہ پر کیے گئے ہیں۔
ایک شامی گروہ کا کہنا ہے کہ شام کے فضائی حملوں میں کم از کم 500 افراد مارے گئے ہیں۔







