گلاسگو میں ایبولا کے مریض کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ میں سکاٹ لینڈ کے شہرگلاسگو میں ایک طبی کارکن میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
یہ خاتون اتوار کی شب ہی مغربی افریقہ کے ملک سیرالیئون سے واپس آئی تھیں اور اب گلاسگو کے گارٹنیول ہسپتال میں ان کا علاج تنہائی میں رکھ کر کیا جا رہا ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ اس خاتون کو پیر کی صبح ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ایبولا کی تصدیق کے ساتھ ہی انھیں الگ کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس خاتون سے رابطے میں رہنے والے تمام ممکنہ افراد کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں جن میں وہ مسافر بھی ہیں جن کے ساتھ یہ خاتون سیرالیؤن سے براستہ لندن گلاسگو پہنچی تھیں۔
پیر کو گلاسگو میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کا کہنا تھا کہ سکاٹش عوام کے ایبولا سے متاثر ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیال ہے کہ شہر میں آمد کے بعد مریضہ خاتون نے صرف ایک فرد سے رابطہ کیا تھا لیکن ان کے ہم سفر تمام افراد کا پتہ چلایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
این ایچ ایس گلاسگو کے ایلسڈیئر میکونیش کا کہنا ہے کہ ’مریضہ کو علیحدہ رکھا گیا ہے جہاں ان کی دیکھ بھال ایسا عملہ کر رہا ہے جو اس قسم کے حالات میں کام کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مریضہ کی حالت ٹھیک ہے اور فی الوقت ان میں بیماری کے زیادہ اثرات عیاں نہیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق مذکورہ خاتون کو جلد از جلد لندن میں ایک خصوصی وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ مغربی افریقی ممالک لائبیریا، سیرالیئون اور گنی میں ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے دو تہائی سے زیادہ مریض سیرالیئون میں ہیں۔
مغربی افریقہ میں تقریباً ایک سال پہلے ایبولا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا اور اس کی وجہ سے اب تک دنیا میں سات ہزار آٹھ سو سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔







