ایبولا کا بحران 2015 کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے

مغربی افریقی ممالک میں ایبولا سے پیدا شدہ بحران کے بارے میں عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ آئندہ سال کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ پیٹر پائٹ نے سیئرالیون سے لوٹ کر بی بی سی کو بتایا کہ وہاں کے حالات میں بہتری دیکھ کر اور اس وائرس کے نئے علاج سے انھیں حوصلہ ملا ہے۔
تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ اس کی ویکسین کے فروغ میں ابھی وقت لگے گا۔
ادارے کے مطابق اس وبا میں اب تک 7300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں مغربی افریقی ممالک سیئرالیون، لائبیریا اور گنی میں ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNIH SPL
پروفیسر پائٹ ان سائنس دانوں میں شامل ہیں جنھوں نے پہلی بار سنہ 1976 میں ایبولا وائرس دریافت کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’لائبیریا یہ وبا اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور آنے والے چند ہفتوں میں یہ سیئرالیون میں عروج پر ہوگی۔ اس وبا کی دم بہت لمبی ہوگی جو کہ کہیں موٹی اور کہیں پتلی ہوگی۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایبولا کی وبا ابھی بھی وہاں ہے۔ اب بھی لوگ اس کی زد میں آ کر مر رہے ہیں اور نئے مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہمیں طویل کوشش کے لیے تیار رہنا چاہیے، شاید ایک جہدِ مسلسل جو سنہ 2015 میں پورے سال جاری رہ سکتی ہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ سیئرالیون میں جو بہتری انھوں نے دیکھی ہے وہ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ’برطانوی امداد سے ملک بھر میں ایبولا کے علاج کے لیے طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں، اور اب آپ کو لوگوں کے سڑکوں پر مرنے کا منظر نظر نہیں آتا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا کہ مریض کے بدن میں پانی پہنچانا اور جراثیم کش ادویات جیسے سہل علاج سے بھی وہ متاثر ہوئے ہیں اور اب ہلاکت کا تناسب اس کے سبب تین میں سے ایک ہو گيا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہلاکت کی شرح کو اس سے نیچے لانے کے لیے مخصوص علاج درکار ہوں گے جن پر تحقیق جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ تین مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کون سا علاج ایبولا کے لیے زیادہ موثر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ویکسین تیار کرنا پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن اسے تیار کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر دوسری وبا پھیلتی ہے یا پھر یہ وبا زیادہ دنوں تک جاری رہتی ہے تو اس کا استعمال کیا جا سکے گا۔







