نیویارک: حملہ آور نے کہا تھا، ’دیکھو میں کیا کرنے والا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی شہر نیویارک میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دو پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے شخص سے حملہ کرنے سے قبل فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ’دیکھو میں کیا کرنے والا ہوں۔‘
28سالہ اسماعیل برنزلی کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ کہ ماضی میں بھی وہ ذہنی عدم توازن اور تشدد کا شکار رہے ہیں۔
دونوں پولیس اہلکاروں 32 سالہ لیو وینجن اور 40 سالہ رافیئل راموس کی یاد میں چراغاں کیا گیا۔
یہ واقعہ سنیچر کو بروکلِن میں پیش آیا جب ایک حملہ آور نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھے دو اہلکاروں کوگولی مار کر خودکشی کر لی۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل برنزلی نے بالٹیمور نامی علاقے میں اپنی سابق 29 سالہ گرل فرینڈ کو بھی گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔
محکمہ پولیس کے سربراہ رابرٹ بوئس کا کہنا تھا کہ اس حملے سے چند ہفتے قبل برنزلی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پولیس اور حکومت مخالف پوسٹیں شائع کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اسماعیل برنزلی کی حملے سے قبل دو آدمیوں سے گفتگو ہوئی جس میں اس نے انھیں انسٹاگرام پر اسے فالو کرنے کو کہا اور پھر کہا، ’دیکھو کہ میں کیا کرتا ہوں۔‘
پولیس چیف بوئس کے مطابق اس کے بعد وہ پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے پاس سے گزرا، اس نے چکر کاٹا اور سڑک پار کر کے گاڑی کے پیچھے گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برنزلی تھوڑی دور اس سڑک پر چلا اور پھر پیسنجر سیٹ کی طرف کی کھڑکی سے گولیاں چلائیں جو دونوں اہلکاروں کو لگیں۔ جس کے بعد وہ وہاں سے بھاگ گیا۔
حملے کی مذمت

،تصویر کا ذریعہAP
اس سے پہلے امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
نیویارک کے میئر بل ڈی بلازیو کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر قتل کا معاملہ ہے اور سارا شہر ان ہلاکتوں پر سوگوار ہے۔
یہ نیویارک میں گذشتہ تین برس میں کسی پولیس اہلکار کی ہلاکت کا پہلا واقعہ ہے۔
لیو وینجن اور رافیئل راموس نامی پولیس اہلکاروں کو سنیچر کی سہ پہر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گشت سے لوٹے تھے۔ حملے کے فوری بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک سیاہ فام تھا جبکہ مرنے والے پولیس افسران ایشیائی اور ہسپانوی تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters







