کربلا میں اربعین کے موقعے پر لاکھوں زائرین کی آمد

 چہلمِ امام حسین کے دوران تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی

،تصویر کا ذریعہISNA

،تصویر کا کیپشن چہلمِ امام حسین کے دوران تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی

عراق میں مسلمانوں کے مقدس مقام کربلا میں شدت پسندی کے خطرات کے باوجود لاکھوں شیعہ زائرین نے پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین کا چہلم (اربعین) منایا۔

عراقی حکام کے مطابق گذشتہ 40 روز کے دوران ایک کروڑ 70 لاکھ زائرین کربلا آئے جس میں سے دس لاکھ کے قریب ایران سے آئے اور ان میں سے اکثریت چہلمِ امام حسین کے لیے یہاں رکی۔

کربلا کے گورنر نے شہر میں لاکھوں زائرین کی آمد کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی قرار دیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکربلا کے گورنر نے شہر میں لاکھوں زائرین کی آمد کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی قرار دیا

دولتِ اسلامیہ اور دیگر سنّی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ممکنہ شدت پسندی کے خطرے کے وجہ سے سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ اربعین شیعہ مسلک کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس دنوں میں سے ایک ہے اور اس موقع پر بڑی تعداد میں زائرین مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

دس لاکھ کے قریب شیعہ زائرین ایران سے آئے

،تصویر کا ذریعہISNA

،تصویر کا کیپشندس لاکھ کے قریب شیعہ زائرین ایران سے آئے

اربعین پر مسلم دنیا کے اکثر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں غم گسار، ساتویں صدی میں پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین اور ان کے اقرباء کی شہادت کے 40 دن پورے ہونے پر عزاداری کرتے ہیں۔

چہلمِ امام حسین کے دوران تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اربعین شیعہ مسلک کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس دنوں میں سے ایک ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشناربعین شیعہ مسلک کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس دنوں میں سے ایک ہے

کربلا کے گورنر نے شہر میں لاکھوں زائرین کی آمد کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابی قرار دیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے اہل تشیع کے کئی مقدس مقامات کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس کے علاوہ عراق میں گذشتہ کئی سالوں کے دوران اربعین کے موقعے پر زائرین پر شدت پسندوں نے حملے کیے ہیں۔