بش سی آئی اے کے طریقوں سے ’مکمل طور پر آگاہ تھے‘

،تصویر کا ذریعہAP
سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے قیدیوں پر دوران تفتیش تشدد کے طریقوں سے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ’مکمل طور پر آگاہ تھے۔‘
یہ بات ڈک چینی نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہی۔
ڈک چینی نے امریکی سینیٹ کی اس رپورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے دوران تفتیش تشدد کے پروگرام کے بارے میں سیاست دانوں کو گمراہ کیا۔
البتہ سی آئی اے قیدیوں پر دوران تفتیش ’واٹر بورڈنگ‘ یعنی پانی میں ڈوبنے کی کیفیت طاری کرنے جیسے تشدد کے طریقوں کے استعمال کا دفاع کرتی آئی ہے۔
ڈک چینی کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی کمیٹی کی یہ باتیں سفید جھوٹ ہیں کہ سی آئی اے سیاست دانوں کو لا علم رکھتے ہوئے اپنے طور پر یہ سب کچھ کر رہی تھی اور یہ کہ اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔
ڈک چینی کا موقف تھا کہ انھوں نے پوری رپورٹ نہیں پڑھی لیکن ان کے بقول سینیٹ کی یہ رپورٹ اغلاط سے پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر بش کو’مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہbbc
جارج بش نے بھی گذشتہ منگل کو سینیٹ کی رپورٹ نشر ہونے سے پہلے ہی اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سی آئی اے کا دفاع کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خوش قسمت ہیں کہ سی آئی اے کے مرد و خواتین اہلکار ہمارے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
امریکی سینیٹ کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد سی آئی اے نے القاعدہ کے ارکان سے تفتیش کی لیے پرتشدد طریقے اختیار کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے اہلکاروں نے اس بارے میں امریکی حکام کو بھی اندھیرے میں رکھا اور ان پرتشدد طریقوں سے کی جانے والی تفتیش کے کوئی خاص معلومات بھی حاصل نہیں ہو سکیں۔‘
لیکن چینی کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کے اس پروگرام سے عام لوگوں کی زندگیاں بچائی گئیں اور سی آئی اے پر تنقید کی بجائے اس کی تعریف کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے انھی طریقوں سے امریکہ کو مزید دہشت گرد حملوں سے بچایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سنہ 2001 اور 2007 کے درمیان سی آئی اے کے اس پروگرام کے لیے کام کرنے والے حکام کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی سینیٹ کی رپورٹ کے اہم نکات:
- دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی 20 بڑی کامیابیوں میں سے کوئی ایک بھی تفتیش کے پرتشدد طریقوں سے حاصل نہیں ہوئی۔
- دہشت گردی کے الزام میں زیر حراست 119 افراد میں سے 26 بےگناہ تھے۔
- قیدیوں کو 180 گھنٹوں تک سونے نہیں جاتا تھا اور انھیں تکلیف دہ حالت میں دیر تک کھڑے رکھا جاتا تھا۔
- سعودی شہری ابوزبیدہ کو گھنٹوں تک تابوت نما صندوق میں قید رکھا گیا۔
- قیدیوں کو واٹربورڈنگ جیسے پرتشدد اور تکلیف دہ طریقوں گزارا گیا۔







