سی آئی اے نے انسانی حقوق پامال کیے: اشرف غنی

اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ جاننا چاہیں گے کہ کتنے افغان شہریوں کو سی آئی اے کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ جاننا چاہیں گے کہ کتنے افغان شہریوں کو سی آئی اے کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا

افغان صدر اشرف غنی نے سی آئی اے کے بارے میں امریکی سینیٹ کی رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی آئی اے نے دنیا کے تمام انسانی حقوق کی اقدار کو پامال کیا ہے۔

اشرف غنی دنیا کے ان بہت سے رہنماؤں میں شامل ہیں جنھوں نے گوانتانامو بے میں قید القاعدہ کے مشتبہ ارکان پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی طرف سے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی سینیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کی طرف سے القاعدہ کے مشتبہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے باوجود کوئی ایسی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں جن سے دہشت گردی کے کسی منصوبے کو ناکام بنانے میں مدد ملی ہو۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خفیہ امریکی ایجنسی نے سنہ 2001 سے 2007 تک چلنے والے پروگرام کے بارے میں سیاست دانوں اور عوام کو گمراہ کیا تھا۔

دوسری جانب سی آئی اے نے اپنے طریقہ کار اور اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وجہ سے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد معصوم لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سی آئی اے کے بہت سے اقدامات تشدد کے زمرے میں آتے ہیں لیکن یہ وقت آگے بڑھنے کا ہے۔

اس رپورٹ میں کسی ایک ملک کا نام بھی ظاہر نہیں کیا گیا جہاں سی آئی اے کے یہ حراستی مراکز قائم تھے، لیکن کئی ملکوں نے جن پر شبہ ہے کہ وہاں یہ مراکز قائم تھے، اس رپورٹ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے ایک پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کے بارے میں کہا کہ یہ بہت ’نفرت انگیز‘ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے تشدد اور اقدامات کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ معلوم کرنا چاہیں گے کہ کتنے افغان شہریوں کو امریکی حراستی مراکز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یکم جنوری کے بعد امریکہ کو افغانستان میں کسی کو قید میں رکھنے کا اختیار نہیں رہے گا۔

پولینڈ کے سابق صدر نے پہلی مرتبہ سر عام اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے ملک میں سی آئی اے کا حراستی مرکز قائم تھا۔

الیگزینڈر کووینسکی نے کہا کہ انھوں نے سنہ 2003 میں امریکہ پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ان پرتشدد طریقوں کو بند کریں۔

انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صدر بش پر واضح کر دیا تھا کہ ایسا تعاون جلد ختم ہونا چاہیے اور یہ ختم ہو گیا۔

لتھوینیا کے وزیر اعظم ایلگرداس بٹکیوس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ بتائے کہ ان کے ملک میں سی آئی اے کے حراستی مرکز میں قیدیوں سے تفتیش کی گئی تھی کہ نہیں۔

لتھوینیا کی طرف سے کی گئی تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ سی آئی اے نے لتھوینیا کے دارالحکومت کے قریب ایک حراستی مرکز قائم کیا تھا لیکن ان تحقیقات سے یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ کیا سی آئی اے نے یہاں قیدیوں سے تفتیش بھی کی تھی یا نہیں۔

جرمنی کے وزیر خارجہ نے بدھ کو امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو اُس وقت اسلامی شدت پسندی کے خلاف درست تصور کیا گیا تھا وہ ناقابل قبول تھا اور فاش غلطی تھی۔

سنہ 2009 میں براک اوباما نے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد سی آئی اے کا تفتیشی پروگرام روک دیا تھا
،تصویر کا کیپشنسنہ 2009 میں براک اوباما نے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد سی آئی اے کا تفتیشی پروگرام روک دیا تھا

جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے یہ معلومات عام کرنے پر صدر اوباما کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اپنے پیشرو صدور سے مختلف رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور انسداد دہشت گردی کے خصوصی اہلکار بین ایمرسن نے کہا ہے کہ سابق صدر بش کی انتظامیہ میں شامل جن اہلکاروں نے تشدد کرنے کی منظوری دی ان پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور سی آئی اے اور امریکی حکومتی اہلکاروں پر بھی جو اس تشدد کے ذمہ دار تھے۔