’سی آئی اے نے نہ صرف بربریت دکھائی بلکہ گمراہ بھی کیا‘

سینٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رپورٹ چھ ہزار سے زیاد صفحات پر مشتمل ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسینٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رپورٹ چھ ہزار سے زیاد صفحات پر مشتمل ہے

امریکہ کی سینیٹ کی ایک رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو مشتبہ دہشتگردوں سے تفتیش کے دوران بربریت اور وحشیانہ پن کا مظاہرہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

امریکی ایوان بالا کی انٹیلیجنس سے متعلق کمیٹی نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ادارے نے امریکی قوم کو ان ہتھکنڈوں کی ’افادیت‘ کے بارے میں درست معلومات نہیں فراہم کیں جو وہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد ’تفصیلی تفتیش‘ کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

رپورٹ کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ دہشتگردوں سے تفتیش کے عمل میں بدانتظامی برتی گئی اور ان تفتیشی طریقوں سے حاصل کی جانے والی معلومات قابل بھروسہ بھی نہیں تھیں اور سی آئی اے ان افراد سے کارآمد معلومات کے حصول میں ناکام رہی۔

سی آئی اے نے اس بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ اس تفتیشی عمل سے زندگیاں بچانے میں مدد ملی تھی۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جان برینن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس پروگرام سے حاصل ہونے والی معلومات القاعدہ کو سمجھنے کے لیے کلیدی تھیں اور آج بھی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں کام آ رہی ہیں۔‘

تاہم سی آئی اے نے تسلیم کیا ہے کہ اس پروگرام کے دوران خصوصاً ابتدائی عرصے میں غلطیاں ہوئیں جب وہ قیدیوں کو زیرِ حراست رکھنے اور ان سے تفتیش کے اتنے بڑے پیمانے کی کارروائی کے لیے تیار نہیں تھی۔

نائن الیون حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ان افراد میں شامل ہیں جنھیں واٹر بورڈنگ کا سامنا کرنا پڑا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننائن الیون حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ان افراد میں شامل ہیں جنھیں واٹر بورڈنگ کا سامنا کرنا پڑا

امریکی صدر براک اوباما نے رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سی آئی اے کے تفتیشی طریقے امریکی اقدار کے خلاف تھے۔

ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ان طریقوں نے دنیا میں امریکہ کے مقام کو خاصا نقصان پہنچایا اور امریکہ کے لیے اتحادی ممالک سے اپنے مفادات کے حصول کا عمل مشکل بنا دیا۔‘

واضح رہے کہ جب سنہ 2009 میں براک اوباما نے عہدۂ صدارت سنبھالا تھا تو انھوں نے سی آئی اے کے تفتیشی پروگرام کو روک دیا تھا۔

سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے رپورٹ چھ ہزار سے زیاد صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں بےشمار شواہد پیش کیے گئے ہیں تاہم فی الحال اس رپورٹ کا 480 صفحات پر مشتمل خلاصہ ہی منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں حکومتی حلقوں میں اس بات پر اختلافات کے باعث کہ کون سا حصہ شائع کیا جائے اور کون سا نہیں، اس رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے خلاصے کی اشاعت پر ردعمل دیتے ہوئے سینیٹ میں ری پبلکن جماعت کے رہنماؤں نے اصرار کیا ہے کہ تفتیش کے ان طریقوں کے استعمال سے ہی اہم مجرم پکڑے گئے اور اسامہ بن لادن کی تلاش اور ہلاکت ممکن ہوئی۔

خیال رہے کہ امریکہ کے ری پبلکن صدر جارج بش کے دورِ صدارت میں سی آئی اے کی القاعدہ کے خلاف کارروائی کے دوران 100 سے زیادہ مشتبہ دہشت گردوں کو امریکہ سے باہر ’بلیک سائٹس‘ یا خفیہ قیدخانوں میں رکھا گیا تھا۔

ان افراد سے معلومات کے حصول کے لیے واٹر بورڈنگ، نیند سے محرومی، سخت موسم کا سامنا کروانے جیسے تشدد کے مختلف طریقے استعمال کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش کچھ قیدیوں کو 180 گھنٹے یعنی تقریباً ساڑھے سات دن تک سونے نہیں دیا گیا جبکہ واٹر بورڈنگ کے دوران ابو زبیدہ سمیت کئی قیدی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔

رپورٹ کے اہم نکات

  • دباؤ کے ذریعے تفتیش کے دوران کسی بھی موقعے پر کسی متوقع حملے کے بارے میں کوئی خفیہ معلومات حاصل نہیں کی جا سکیں۔
  • انسداد دہشتگردی میں ’کامیابی‘ کے جن 20 واقعات کا سی آئی اے نے ذکر کیا ہے ان میں کسی ایک میں بھی ایسی معلومات حاصل نہیں ہوئیں جن کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ یہ معلومات معمول کی تفتیش سے حاصل نہیں ہو سکتی تھیں۔
  • غیر مروجہ تفتیش کے طریقے استعمال کرنے کے لیے سی آئی اے نے جب اجازت مانگی تو اس نے غلط معلومات دیں اور یوں سیاستدانوں اور عوام کو گمراہ کیا۔
  • سی آئی اے کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ کسی بھی سینیٹر کو تفتیشی پروگرام پر اعتراض نہیں تھا۔
  • تفتیشی پروگرام انتہائی ناقص تھا۔ اس سلسلے میں ’کوبالٹ‘ نامی قیدخانے کے قیام کی مثال دی جا سکتی ہے۔
  • تفتیشی پروگرام کے دوران جن 119 افراد کو قید رکھا گیا ان میں سے کم از کم 26 ایسے تھے جنھیں قید میں رکھنا غلط تھا، اور کئی قیدیوں کو ضرورت سے زیادہ مہینوں قید میں رکھا گیا۔
  • سی آئی اے کے ان دعوؤں کے باوجود کہ تفتیش کے آغاز میں سخت طریقے استعمال نہیں کیے جائیں گے، مشتبہ افراد پر تفتیش کے آغاز سے ہی جارحانہ طریقے لاگو کیے گئے۔
  • تفتیش کے جو طریقے اپنائے گئے ان میں 180 گھنٹے تک قیدیوں کو نیند سے محروم رکھنا شامل تھا، اور اس دوران انھیں عموماً کھڑے رکھا جاتا تھا یا تکلیف دہ حالت میں رکھا جاتا تھا۔
  • واٹر بورڈنگ کا طریقہ قیدیوں کے لیے طبعی طور پر نقصان دہ تھا اور اس سے انھیں تشنّج اور قے ہوتی تھی۔