اوباما کی امیگریشن اصلاحات کی شدید مخالفت

صدر اوباما نے یہ اصلاحات اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے یہ اصلاحات اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیں ہیں۔

امریکہ میں ایوان نمائندگان کے رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سپیکر جان بوہینر نے امریکی صدر براک اوباما کے اپنے صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے امیگریشن اصلاحات کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکہ کی قدامت پسند پارٹی کے رہنما نے کہا کہ صدر کے ان اقدامات نے متفقہ قانون سازی کے امکانات کو تباہ کر دیا ہے اور اپنی صدارت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

صدر اوباما کی امیگریشن اصلاحات کے تحت چالیس لاکھ غیر قانونی تارکیں وطن اب امریکہ میں کام کرنے کے اجازت نامے یا ورک پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔

لیکن رپبلکن سپیکر بوہینر کا خیال ہے کہ اس اعلان سے غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

سپیکر نے جمعہ کو اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’: ہم نے امیگریشن کے نظام کو تباہ کر دیا ہے اور امریکی عوام ہم سے توقع کرتے ہیں کہ اس کو ٹھیک کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ اعلان یک طرفہ طور پر ایک بادشاہ کی طرح کیا ہے اور جمہوری طرز عمل اختیار نہیں کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اوباما امریکی شہریوں کی خواہشات کو نہیں سمجھ سکے۔ انھوں نےکہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ صدر نے کانگریس کی مرضی کے خلاف فیصلہ کیا ہو۔

بوہینر کا کہنا تھا کہ ’وہ سارا سال صدر کو متنبہ کرتے رہے ہیں کہ صحت عامہ کے قوانین کے بارے میں یک طرفہ فیصلہ کرنے اور امیگریشن قوانین کو صدارتی اختیارت استعمال کر کے نافذ کرنے کی دھمکیاں دینے سے وہ پارلیمان میں مل جل کر کام کرنے اور قانون سازی کرنے کے لیے ضروری اعتماد سازی کے عمل کو ناممکن بنا رہے ہیں۔‘

آج ہی رپبلکن ارکان نے صدر اوباما کی ہیلتھ کیئر اصلاحات جنہیں عام زبان میں اوباما کیئر بھی کہا جاتا ہے کے کچھ حصوں کی قانونی حیثیت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔

صدر اوباما کی امیگریشن اصلاحات کے تحت ایسے والدین جن کے پاس قانونی طور پر امریکہ میں رہائش کی دستاویزات نہیں ہوں گی مگر ان کے بچے قانوناً امریکی شہریت رکھتے ہوں گے وہ امریکہ میں تین سال کے لیے ورک پرمٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ گیارہ لاکھ تارکیں وطن امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

صدر اوباما کی اصلاحات سے چالیس لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا۔