امریکہ: راکٹ پھٹنے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات

راکٹ

،تصویر کا ذریعہNASA

،تصویر کا کیپشنراکٹ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے سپلائی لے کر جا رہا تھا اور پرواز کے چند سیکنڈ بعد ہی پھٹ گیا

پائلٹ کے بغیر راکٹ بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس کی وجہ ڈھونڈ کر رہے گی۔ اس کمپنی کا اینٹیئرز راکٹ بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) جاتے ہوئے راستے ہی میں پھٹ گیا تھا۔

اینٹیریز نامی یہ راکٹ اوربیٹل سائنسز کارپوریشن نے بنایا تھا اور یہ امریکی ریاست ورجینیا کے لانچ پیڈ سے اڑنے کے کچھ سیکنڈ بعد ہی ہوا میں پھٹ گیا تھا۔

کمپنی نے جائے وقوعہ کے قریب رہنے والے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ راکٹ کے مضرِ صحت ملبے سے دور رہیں۔

عملے نے ناسا سے کہا ہے کہ وہ ملبے کی تلاش میں مدد کرے تاکہ حادثے کی وجہ معلوم کی جا سکے۔ تحقیقات میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔

اوربیٹل سائنسز کے ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ فرینک کلبرسٹن نے کہا کہ ’اس حادثے کی بنیادی وجہ جانے بغیر ہم کوئی پرواز نہیں اڑائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اب ان کی سب سے اولین ترجیح لانچ پیڈ کی جلدی اور محفوظ طریقے سے مرمت کرنا ہے۔

کلبرسٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ مشن کے رینج سیفٹی آفیسر نے راکٹ کی پرواز کے 15 سیکنڈ کے بعد ہی ایک اہم مگر نامعلوم خامی کا پتہ چلنے کے بعد اسے تباہ کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

انھوں نے کہا کہ جب راکٹ ٹھیک طریقے سے نہیں اڑتا یا ایسا لگتا ہے کہ وہ مناسب طریقے سے کام نہیں کر رہا تو عوامی تحفظ کے لیے بہتر ہوتا ہے کہ اس کے اندر موجود دھماکہ خیز مادہ سے اسے تباہ کر دیا جائے۔

تفتیش راکٹ کے انجنوں کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ اے جے۔26 انجن سویت دور کے مرمت کیے ہوئے وہ پاور انجن تھے جن کو 1960 کی دہائی میں خلابازوں کو چاند پر لے جانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

والپس فلائٹ فیسیلیٹی سے لانچ کیے جانے والے راکٹ نے قریباً 2,200 کلوگرام وزن کی اشیا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کے چھ خلابازوں کے لیے لے کر جانی تھیں۔

ان اشیا میں انسانی دماغ میں خون کا بہاؤ اور شہاب ثاقب کا مشاہدہ کرنے والے آلات تھیں۔ اس کے علاوہ اس میں دیگر آلات اور خوراک کا سامان بھی تھا۔

دریں اثنا روسی خلائی ایجنسی نے آئی ایس ایس کو سپلائی مہیا کرنے کے لیے اپنا راکٹ لانچ کیا ہے جو حفاظت سے چھ گھنٹے کے بعد اپنے مقام پر پہنچ گیا۔ اس میں تین ٹن کے قریب خوراک بھی بھیجی گئی ہے۔