شامی باغی دولتِ اسلامیہ سے لڑنے کے لیے کوبانی میں

توقع ہے کہ یہ جنگجو بدھ کو کوبانی سے 16 کلومیٹر دور سوروچ کے مقام پر اکٹھے ہو جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتوقع ہے کہ یہ جنگجو بدھ کو کوبانی سے 16 کلومیٹر دور سوروچ کے مقام پر اکٹھے ہو جائیں گے

کوبانی کے تحفظ کے لیے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے برسرِپیکار کرد جنگجوؤں کی مدد کے لیے 200 کے قریب شامی باغی اس اہم سرحدی شہر میں پہنچ گئے ہیں۔

شامی باغیوں کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ تمام جنگجو مغرب کی حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے پرچم تلے شام میں جنگ میں مصروف تھے۔

یہ باغی ایک ایسے وقت کوبانی پہنچے ہیں جب 150 عراقی کرد پیش مرگہ جنگجوؤں کا دستہ ترکی پہنچا ہے جہاں سے وہ کوبانی آئے گا۔

یہ دستہ ہوائی جہاز کے ذریعے عراق سے جنوب مشرقی ترکی کے ایک ہوائی اڈے تک پہنچا، جب کہ ایک اور دستہ ترکی میں زمینی راستے سے سفر کر رہا ہے اور اس کے پاس توپ خانے سمیت بھاری اسلحہ ہے۔

ترکی نے گذشتہ ہفتے کردوں کو ترکی سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل وہ ایسا کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

جب پیش مرگہ کے جنگجو عراقی شہر اربیل سے روانہ ہوئے تو ہزاروں افراد نے جھنڈے لہرا کر انھیں رخصت کیا۔ سو کے قریب جنگجوؤں پر مشتمل یہ دستہ بدھ کو جنوب مشرقی ترکی کے شانلی اورفہ ہوائی اڈے تک پہنچا تھا۔

اس کے بعد انھیں ترک فوج کی نگرانی میں بسوں میں ہوائی اڈے سے لے جایا گیا۔

ہزاروں کردوں نے پیش مرگہ کے جنگجوؤں کا جھنڈے لہرا کر استقبال کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہزاروں کردوں نے پیش مرگہ کے جنگجوؤں کا جھنڈے لہرا کر استقبال کیا

چند گھنٹوں کے بعد علی الصبح 80 ٹرک مزید جنگجو اور اسلحہ لے کر جنوبی مشرقی سرحدی گزرگاہ خابور کے راستے ترکی پہنچ گئے۔

ترک پولیس نے ہوا میں گولیاں چلا کر کردوں کے ایک بڑے ہجوم کو منتشر کیا جو جنگجوؤں کا خیرمقدم کرنے وہاں پہنچا تھا۔ ہجوم میں سے بعض لوگوں نے پولیس پر پتھر برسائے۔

توقع ہے کہ یہ جنگجو بدھ کو کوبانی سے 16 کلومیٹر دور سوروچ کے مقام پر اکٹھے ہو جائیں گے، جس کے بعد وہ سرحد پار کر کے شام میں داخل ہو جائیں گے۔

ترکی پر خاصا بین الاقوامی دباؤ ہے کہ وہ کوبانی کو دولتِ اسلامیہ کو ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ تاہم وہ عسکریت پسند کرد تنظیم پی کے کے کو سرحد پار کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

پی کے کے کئی عشروں سے ترکی سے نبرد آزما ہے، البتہ گذشتہ سال دونوں کے درمیان جنگ بندی ہو گئی تھی۔ ترک حکومت پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ کوبانی میں لڑنے والے کرد جنگجوؤں کا پی کے کے ساتھ رابطہ ہے۔