برازیل میں برسرِ اقتدار جیلما روسیف دوبارہ صدر منتخب

گذشتہ اتوار کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالنے کی شرح 80 فیصد رہی جس میں روسیف کو 42 فیصد ووٹ ملے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ اتوار کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالنے کی شرح 80 فیصد رہی جس میں روسیف کو 42 فیصد ووٹ ملے

برازیل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی ورکرز پارٹی (پی ٹی) کی برسراقتدار صدر جیلما روسیف 51.45 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہو گئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جیلما روسیف کے مخالف امیدوار دائیں بازو کے ایسیونیوس کو 48.55 فیصد ووٹ پڑے۔

جیلما روسیف سنہ 2010 سے اقتدار میں ہیں اور ان کی حکومت کی فلاحی پالیسیوں کی وجہ سے وہ ملک کے غربا میں بہت مقبول ہیں۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب کی دوڑ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی تھی کیونکہ گذشتہ اتوار کو ہونے والے انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہو پائی تھی۔

دونوں رہمناؤں اپنی انتخابی مہم کے دوران برازیل کی معیشت کو بہتر بنانے اور غربت کا خاتمہ کرنے کے دعوے کیے تھے۔

لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ دولت مند برازیلی شہریوں نے ایسیونیوس کی حمایت کی جنھیں وہ برازیل کی معیشت کو درست سمت میں لانے کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔

برازیل میں گذشتہ چار سال کے دوران معیشت کی ترقی کی شرح سست روی کا شکار رہی اور تکنیکی اعتبار سے برازیل میں معاشی بحران ہے۔

برازیل میں 18 سے 70 برس تک کے افراد پر ووٹ ڈالنا لازم ہے اور اتوار کو ہونے والے انتخاب میں 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔

گذشتہ اتوار کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالنے کی شرح 80 فیصد رہی جس میں روسیف کو 42 فیصد ووٹ ملے تھے۔