برازیل انتخاب: روسیف اور نیوس آمنے سامنے

ڈلما روسیف

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنڈلما روسیف کا سامنا ایسیو نیوس سے ہو گا جن کا کہنا ہے کہ وہ تبدیلی کے نمائندہ ہیں

برازیل میں صدارتی انتخابات کی دوڑ دوسرے راؤنڈ میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ موجودہ صدر جیلما روسیف اتوار کو ہونے والے انتخاب میں واضح برتری حاصل نہیں کر پائی ہیں۔

انھوں نے 42 فیصد ووٹ حاصل کیے اور اب ان کا سامنا مرکز کے دائیں طرف جھکاؤ رکھنے والے ایسیو نیوس سے 26 اکتوبر کو ہو گا۔

حیران کن طور پر سامنے آنے والے نتائج میں اہم ماحولیاتی کارکن مارینا سلوا، جو کہ ایک مرحلے پر پسندیدہ ترین شخصیت تھیں، اب صدارت کی دوڑ سے باہر ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب مقابلہ سخت ہو گا کیونکہ دونوں امیدواروں کی کوشش ہو گی کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کریں۔

نتائج پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے جیلما روسیف نے، جو کہ چار سال صدر رہ چکی ہیں، کہا کہ عوام نے ’ماضی کے بھوتوں، کساد بازاری اور بے روزگاری‘ کو رد کر دیا ہے۔

’میں نے بیلٹ باکسز اور گلیوں سے بھیجا گیا پیغام واضح طور پر سمجھ لیا ہے۔ برازیل کے شہریوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ ہم اس برازیل کی تعمیر میں تیزی لائیں جو ہم بنانا چاہتے ہیں۔‘

54 سالہ سینیٹر اور مناس گیریئس ریاست کے سابق گورنر ایسیو نیوس کہتے ہیں کہ ڈلما روسیف کے حمایتی اب انھیں ووٹ ڈالیں کیونکہ وہ ’امید اور تبدیلی‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

56 سالہ جیلما روسیف، ، نے کہا کہ وہ اور دیگر سوشلسٹ رہنما آنے والے دنوں میں مل بیٹھ کر انتخابات کے بارے میں حمکتِ عملی بنائیں گے۔

انھوں نے ساؤ پالو میں میڈیا کو بتایا کہ برازیل نے واضح طور پر ’سٹیٹس کو‘ کو رد کیا ہے۔

برازیل میں 18 سے 70 برس تک کے افراد پر ووٹ ڈالنا لازم ہے اور اتوار کو ہونے والے انتخاب میں 14 کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح 80 فیصد رہی۔

برازیل نے کانگریس کے اراکین اور علاقائی گورنروں کو بھی اتوار کو ہی منتخب کیا۔

انتخابی مہم کے آغاز میں 66 سالہ روسیف کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ واضع برتری سے جیت جائیں گی۔

لیکن اس کے بعد اس مہم کی شکل ہی بدل گئی جب پہلے سوشلسٹ امیدوار ایڈورڈو کیمپوس کی ایک فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد سلویا صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں۔

گزشتہ ماہ تک ان کی کارکردگی بہتر تھی اور اکثر جائزوں میں انہیں پسندیدہ قرار دیا جا رہا تھا لیکن پھر جیلما روسیف کی طرف سے ان کی اہلیت پر حملوں کے بعد ان کی مقبولیت میں کمی آ گئی۔

ریو ڈی جنیرو میں بی بی سی کی نامہ نگار جولیا کارنیرو کہتی ہیں کہ انتخابی نتائج سے برازیل کے شہریوں کی اکثریت حیران ہے۔

انھوں نے کہا کہ آخر میں لوگوں نے روایتی جماعتوں کو ہی ووٹ دیا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کے لیے کس امیدوار پر بھروسہ کیا جائے گا۔