شکست کے بعد ہمت نہ ہاریں: برازیلی صدر

،تصویر کا ذریعہGetty
برازیل کی صدر جیلما روسیف نے اپنے ہم وطنوں سے کہا ہے کہ وہ فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جرمنی سے 7-1 کی تباہ کن شکست کے بعد ہمت نہ ہاریں۔
انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’تمام برازیلیوں کی طرح میں بھی اس شکست کے بعد انتہائی افسردہ ہوں، تاہم ہم اپنے آپ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔‘
برازیل کی قومی ٹیم کے کوچ لوئس فلپ سکولاری نے اسے اپنی زندگی کا بدترین دن کہا ہے۔
برازیلی ذرائع ابلاغ نے بدھ کے روز اس شکست کو تاریخی ذلت قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں حیرت اور صدمے کے ماحول کی عکاسی کی ہے۔
یہ شکست ورلڈ کپ کی تاریخ میں برازیل کی بدترین شکست ہے۔
ریو سے بی بی سی کے نامہ نگار ویر ڈیویز نے کہا کہ کم از کم تین سو ڈالر کی ٹکٹیں لے کر میچ دیکھنے والے مداحوں کی ایک بڑی تعداد ہاف ٹائم پر ہی سٹیڈیم چھوڑ کر جا رہی تھی۔ اس وقت تک جرمنی کی برتری صفر کے مقابلے میں پانچ گول کی تھی۔
منگل کی شام برازیل کے مختلف شہروں میں بہت سے لوگ تمام رات سڑکوں پر پھرتے رہے اور میوزک بجاتے رہے۔
فٹبال کا کھیل برازیل میں انتہائی مقبول ہے اور اس شکست سے لوگ انتہائی غم زدہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برازیلی صدر نے کہا کہ ’مجھے ہم سب کے لیے برا لگ رہا ہے، مداحوں کے لیے، کھلاڑیوں کے لیے۔‘ انھوں نے اپنے ہم وطنوں سے کہا کہ وہ اس شکست کو بھول جائیں اور آگے بڑھیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس شکست سے آئندہ اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں جیلما روسیف کی کارکردگی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
’ایک مقامی اخبار کا کہنا تھا کہ ’برازیل کی تاریخی تضحیک جیلما روسیف کی حکومت کے لیے تنبیہ ہے کیونکہ اس شکست کی وجہ سے پیدا ہونے والے برے موڈ کی وجہ سے لوگ معیشت کے بارے میں اور بھی برہم ہوں گے۔‘
برازیل کی ٹیم اس میچ میں اپنے کپتان تیاگو سلوا اور سٹار کھلاڑی نیمار کے بغیر اتری تھی۔ تیاگو مسلسل دو میچوں میں ییلو کارڈ ملنے کی وجہ سے اس میچ میں حصہ نہیں لے سکے جبکہ نیمار کولمبیا کے ساتھ میچ کے دوران زخمی ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔
جرمنی نے ابتدائی 29 منٹ میں برازیل کے خلاف پانچ گول کر دیے تھے، اور میچ کے اختتام سے پہلے بہت سے برازیلی تماشائی اپنی ٹیم کی بجائے جرمنی کی حمایت کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ میچ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی سیمی فائنل میں سات گول کیے گئے ہوں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ورلڈ کپ میچ میں سب سے زیادہ آٹھ گول آخری بار جرمنی ہی نے سعودی عرب کے خلاف 2002 میں کیے تھے۔
بدھ کو ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں ہالینڈ اور ارجنٹائن مدِمقابل ہوں گے اور جیتنے والے کا مقابلہ اتوار کو فائنل میں جرمنی سے ہوگا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور جرمن صدر فائنل دیکھنے برازیل جائیں گے۔
برازیل کے لیے ماضی کی بدترین شکستیں
1950: ورلڈ کپ کے فائنل میں ریو کے سٹیڈیم میں میچ برابر جا رہا تھا کہ آخری لمحات میں یوروگوائے کے السیدس خگیا نے فیصلہ کن گول کر کے دو لاکھ برازیلی مداحوں کو ساکت کر دیا۔ اس میچ کو قومی سانحہ مانا جاتا ہے اور اس گول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے برازیل کا دل توڑ دیا تھا۔
1966: یہ برازیل کی ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر بدترین کارکردگی تھی جب وہ 1934 کے بعد پہلی مرتبہ پہلے مرحلے میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔ اس ٹورنامنٹ میں سٹار کھلاڑی پیلے کو مخالف ٹیموں نے خوب نشانہ بنایا تھا۔
1978: برازیل اور ارجنٹائن گروپ سٹیج کے دوسرے راؤنڈ میں برابر تھے۔ برازیل نے پولینڈ کو 3-1 سے ہرایا۔ دوسری جانب ارجنٹائن کے میچ کو تاخیر سے شروع کیا گیا تاکہ برازیل کے میچ کا حتمی سکور معلوم ہو سکے۔ کامیابی کے لیے ارجنٹائن کو چار گولوں کی برتری سے جیتنا تھا مگر پیرو کی ٹیم مکمل طور پر ناکام ہوگئی اور ارجنٹائن نے اسے چھ گولوں سے ہرا دیا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن کے کچھ سیاست دانوں اور پیرو کی فوجی حکومت نے یہ میچ فکس کیا تھا۔
یاد رہے کہ برازیل نے 1958، 1962، 1970، 1994 اور 2002 میں ورلڈ کپ جیتا ہے جو کہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ٹائٹل ہیں۔







