برازیل: صدارت کے لیے کانٹے دار مقابلہ آج

جیلما روسیف کا سامنا ایسیو نیوس سے ہو رہا ہے اور دونوں نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجیلما روسیف کا سامنا ایسیو نیوس سے ہو رہا ہے اور دونوں نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے

برازیل کے لاکھوں ووٹرز نیا صدر منتخب کرنے کے لیے اتوار کو دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈال رہے ہیں جسے مبصرین برازیل کے سخت ترین انتخاب میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب کی دوڑ دوسرے راؤنڈ میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ گذشتہ اتوار کو ہونے والے انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہو پائی تھی۔

دوسرے راؤنڈ میں بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی ورکرز پارٹی (پی ٹی) کی برسراقتدار صدر جیلما روسیف ہیں تو دوسری جانب دائیں بازو کے ایسیونیوس ہیں۔

دونوں امیدواروں نے برازیل کی معیشت کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ووٹ ڈالنے کا عمل برازیل کے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوگا۔

برازیل میں 18 سے 70 برس تک کے افراد پر ووٹ ڈالنا لازم ہے اور اتوار کو ہونے والے انتخاب میں 14 کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

ڈلما روسیف

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشن56 سالہ جیلما روسیف، ، نے کہا کہ وہ اور دیگر سوشلسٹ رہنما آنے والے دنوں میں مل بیٹھ کر انتخابات کے بارے میں حمکتِ عملی بنائیں گے

گذشتہ اتوار کو ہونے والی پولنگ میں ووٹ ڈالنے کی شرح 80 فیصد رہی۔

ان انتخابات میں روسیف کو 42 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روسیف کو قدرے برتری حاصل ہے۔

ڈیٹا فولہا کے ایک تازہ سروے نے روسیف کو 52 فی صد ووٹ جبکہ نیویس کو 48 فیصد دیے۔ آئی بوپ کے ایک دوسرے اوپینین پول میں روسیف کو 53 فی صد ووٹ دیے گئے ہیں۔ اور ان دونوں پولز میں غلطی کے دو فی صد امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے حیران کن طور پر سامنے آنے والے نتائج میں اہم ماحولیاتی کارکن مارینا سلوا، جو کہ ایک مرحلے پر پسندیدہ ترین شخصیت تھیں، اب صدارت کی دوڑ سے باہر ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب مقابلہ سخت ہوگا کیونکہ دونوں امیدواروں کی کوشش ہو گی کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کریں۔

نتائج پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے جیلما روسیف نے، جو کہ چار سال صدر رہ چکی ہیں، کہا کہ عوام نے ’ماضی کے بھوتوں، کساد بازاری اور بے روزگاری‘ کو رد کر دیا ہے۔

نیوس کا میلان دائیں بازو کی جانب ہے اور وہ خود کو تبدیلی کا نمائندہ بتا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننیوس کا میلان دائیں بازو کی جانب ہے اور وہ خود کو تبدیلی کا نمائندہ بتا رہے ہیں

’میں نے بیلٹ باکسز اور گلیوں سے بھیجا گیا پیغام واضح طور پر سمجھ لیا ہے۔ برازیل کے شہریوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ ہم اس برازیل کی تعمیر میں تیزی لائیں جو ہم بنانا چاہتے ہیں۔‘

54 سالہ سینیٹر اور مناس گیریئس ریاست کے سابق گورنر ایسیو نیوس کہتے ہیں کہ جیلما روسیف کے حمایتی اب انھیں ووٹ ڈالیں کیونکہ وہ ’امید اور تبدیلی‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

56 سالہ جیلما روسیف، ، نے کہا کہ وہ اور دیگر سوشلسٹ رہنما آنے والے دنوں میں مل بیٹھ کر انتخابات کے بارے میں حمکتِ عملی بنائیں گے۔

برازیل نے کانگریس کے اراکین اور علاقائی گورنروں کو بھی اتوار کو ہی منتخب کیا۔

انتخابی مہم کے آغاز میں روسیف کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ واضع برتری سے جیت جائیں گی۔

لیکن اس کے بعد اس مہم کی شکل ہی بدل گئی جب پہلے سوشلسٹ امیدوار ایڈورڈو کیمپوس کی ایک فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد سلویا صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں۔