لبنان: شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں 6 فوجی ہلاک

حالیہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب جمعے کو لبنان کی فوج نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا اور ایک مقامی رہنما کو حراست میں لیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحالیہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب جمعے کو لبنان کی فوج نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا اور ایک مقامی رہنما کو حراست میں لیا

لبنان میں فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال میں واقع طرابلس شہر میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران چھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کا سنی شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی کا یہ دوسرا دن تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے ساتھ منسلک ہیں۔

پڑوسی ملک شام میں کشیدگی کی وجہ سے طرابلس میں فرقہ وارانہ تناؤ بڑھ گیا ہے اور جھڑپیں معمول کی بات بن کر رہی گئیں ہیں۔ لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایک ایسے تاریخی بازار میں تصادم ہوا ہے جسے یونیسکو کے عالمی ورثے کی حیثیت دلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

حالیہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب جمعے کو لبنانی فوج نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا اور ایک مقامی رہنما کو حراست میں لیا۔

اس کے بعد مسلح افراد نے شہر کے مرکز کے قریب خان الاقصر میں فوج کی گشتی پارٹی پر حملہ کیا جس کے بعد عسکریت پسند بازار کی طرف پسپا ہوئے جہاں سنیچر کی دوپہر تک جھڑپیں جاری رہیں۔

فوج کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ مسلح افراد کو گھیرے میں لیا گیا جن میں بعض فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے۔

’فوج نے اپنا آپریشن ختم کر دیا ہے، کئی مسلح افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان سے اسلحہ برآمد کرکے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ دیگر شدت پسند بھاگ نکلے جن کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔‘

لڑائی شہر کے دیگر حصوں تک بھی پھیل گئی جن میں اطلاعات کے مطابق ایک عام شہری ہلاک ہوا جبکہ ایک صحافی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سکیورٹی حکام نے ان مسلح افراد کا ابھی تک کسی گروپ کے ساتھ منسلک ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اے ایف کے مطابق لڑائی کے دوران بازار میں درجنوں دکانیں تباہ ہو گئیں جبکہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔