ایبولا سے عالمی امن کو خطرہ ہے: صدر اوباما

۔۔ایبولا ہم سب کو بہت بڑے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے خدشات سے دوچار کر سکتا ہے: صدر اوباما

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن۔۔ایبولا ہم سب کو بہت بڑے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے خدشات سے دوچار کر سکتا ہے: صدر اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’عالمی امن کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ ایبولا کے خلاف جنگ میں بڑا کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کی نظریں امریکہ پر لگی ہوئی ہیں،‘ تاہم ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ’عالمی سطح پر کوششوں‘ کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر نے جن اقدامات کا اعلان کیا ان میں خطے میں تین ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے علاوہ صحت عامہ کی نئی سہولیات کی تعمیر بھی شامل ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس برس ایبولا وائرس کے شکار لوگوں میں سے تقریباً نصف یعنی 2,461 زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے ایبولا کے خلاف مہم میں شمولیت کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے اہلکار کہہ چکے ہیں کہ ایبولا کا اس قدر تیزی سے پھیلاؤ صحت عامہ کا ایسا چیلنج ہے ’دور حاضر میں جس کی مثال نظر نہیں آتی۔‘

اقوام متحدہ کے ایبولا کے خلاف مہم کے رابطہ کار کے مطابق صرف گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار رقم میں دس گنا کا اضافہ ہو چکا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ دیگر اقدامات کے علاوہ امریکہ:

  • لائبیریا میں نئے 17 ہسپتال یا طبی مراکز تعمیر کرے گا جن میں سے ہر ایک میں سو سو مریضوں کو داخل کرنے کی سہولت ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے پانچ سو اہلکاروں کو ضروری تربیت فراہم کرے گا۔
  • ایبولا سے متاثرہ ممالک میں دوائیں اور دیگر ضروری ساز و سامان پہنچانے کے لیے فضائی انتظام تشکیل دے گا۔
  • لاکھوں لوگوں کو ایبولا سے بچاؤ کے لیے ضروری ساز و سامان (میڈیکل کِٹ) فراہم کی جائیں گی جن میں وہ 50 ہزار پیکٹ بھی شامل ہیں جو امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) رواں ہفتے میں لائبیریا پہنچائے گا۔

امریکی امداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ صدر اوباما نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اس سلسلے میں اپنی کوشششوں میں اضافہ کریں کیونکہ ایبولا کا اس تیزی سے پھیلاؤ ’ہم سب کو بہت بڑے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے خدشات‘ سے دوچار کر سکتا ہے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے اس بڑے پیمانے پر پھیل جانے کی وجہ یہی ہے کہ وہاں اس موذی مرض نے ہسپتالوں کو ’بالکل بے بس‘ کر دیا ہے اور ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے لوگ ’گلیوں اور سڑکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔‘

مغربی افریقہ میں ایبولا کے اس بڑے پیمانے پر پھیل جانے کی وجہ یہی ہے کہ وہاں اس موذی مرض نے ہسپتالوں کو ’بالکل بے بس‘ کر دیا ہے: صدر اوباما
،تصویر کا کیپشنمغربی افریقہ میں ایبولا کے اس بڑے پیمانے پر پھیل جانے کی وجہ یہی ہے کہ وہاں اس موذی مرض نے ہسپتالوں کو ’بالکل بے بس‘ کر دیا ہے: صدر اوباما

دوسری جانب کچھ ممالک میں صحت عامہ کے اہلکاروں کو عوام کی جانب سے بھی منفی رد عمل کا سامنا ہے۔ منگل کو گنی میں جب اہلکار ایک گاؤں میں ایبولا سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے پہنچے تو ان پر حملہ کر دیا گیا۔

ملک کے جنوبی علاقے ’وامے‘ میں لوگوں نے عالمی ادارۂ صحت اور ریڈ کراس کے اہلکاروں پر پتھر پھینکے جس سے کم از کم دس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ دیگر کو جان بچانے کے لیے جنگل کی جانب فرار ہونا پڑا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گنی کے اس علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لوگوں کا کہنا ہے وہ اس بات کو نہیں مانتے کہ ایبولا کا کوئی وجود ہے۔ کئی لوگ صحت کے اداروں سے تعاون نہیں کر رہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ایبولا کی تشخیص ہو جانے کا مطلب آپ کی یقینی موت ہے۔