'ایبولا سے لائبیریا کے قومی وجود کو خطرہ‘

کمزوری کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر مریضوں کو ہسپتالوں میں کم جگہیں ہونے کی وجہ سے داخل نہیں کیا جا رہا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکمزوری کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر مریضوں کو ہسپتالوں میں کم جگہیں ہونے کی وجہ سے داخل نہیں کیا جا رہا

مغربی افریقہ کے ملک لائبیریا میں ایبولا وائرس نے تباہی مچا دی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے وجود کو ہی اس وبا سے خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

لائبیریا کے وزیر دفاع براؤنی ساموکائی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ایبولا کے بحران کا بین الاقوامی سطح پر ردعمل ’ کمزور‘ ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لائبیریا میں ایبولا کے مزید ہزاروں متاثرین کے کیس سامنے آنے کا امکان ہے۔

لائبیریا، گنی اور سیئرالیون میں کم از کم 2288 افراد ایبولا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ان اموات میں سے آدھی ہلاکتیں گذشتہ تین ہفتوں میں ہوئی ہیں۔

نائیجیریا میں 21 متاثرین میں سے آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جبکہ سینیگال میں گذشتہ ماہ صرف ایک شخص کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تشخیص کی گئی تھی جو اطلاعات کے مطابق اب بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔

طبی عملے کے ایک اہلکار نے کہا کہ گنی کے ایک طالب علم کے علاج کے بعد ان کے طبی معائنے کے دوران ایبولا وائرس کا سراغ نہیں ملا۔

براؤنی ساموکائی نے کہا کہ ایبولا وائرس کا پھیلاؤ لائبیریا میں ’سب کچھ تباہ کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے صحت عامہ کا ناقص نظام ایبولا کے پھیلاؤ کا کنٹرول نہیں کر پا رہا۔‘

لائبیریا میں طبی عملے کی سخت کمی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلائبیریا میں طبی عملے کی سخت کمی ہے

براؤنی ساموکائی نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ لائبیریا میں ایبولا کی وبا سے نمٹنے کے لیے ’سماجی ڈھانچے، انتظامی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مالی وسائل کا فقدان ہے۔‘

منگل کولائبیریا میں اقوام متحدہ کے سفیر نے کہا کہ کم از کم 160 صحت کے کارکن ایبولا سے متاثر ہوئے جن میں سے آدھے ہلاک ہو گئے۔

کارن لینڈگرن کا کہنا تھا کہ صحت کے کارکن مناسب حفاظتی آلات، تربیت یا تنخواہ کے بغیر کام کر رہے تھے۔

ایبولا نامی یہ بیماری انسانوں میں براہِ راست طور پر جسمانی تعلق، خون کے تبادلے، جسمانی رطوبت یا اعضا سے، اور بالواسطہ طور پر آلودہ فضا سے پھیلتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دیگر مغربی افریقی ممالک کے برعکس لائبیریا میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

اس کی وجہ واضح نہیں ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق تدفین کے طریقوں سے ہے، کیونکہ لائبیریا کی روایات کے مطابق دفنانے سے پہلے لوگ میت کو چھوتے ہیں اور اس کے پاس کھانا بھی کھاتے ہیں۔

مونروویا میں مریضوں کو داخل کرنے کے لیے ہسپتالوں میں بستر نہیں ہیں اور متاثرین کو اپنے گھروں کو لوٹنے کا کہا جاتا ہے جہاں وہ ایبولا کی وبا کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ایبولا وائرس کی وبا سے لڑنے والی دیگر تنظیموں کو اپنی کوششوں کو ’تین سے چار گنا‘ تیز کرنے کا کہا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ افریقی یونین کے علاقے میں ایک سو افریقی صحت کے کارکنوں کو متحرک کرے گا اور دس لاکھ ڈالر امداد بھی دے گا۔