’سکاٹ لینڈ علیحدہ نہ ہو، مزید اختیارات دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

برطانیہ کی تین مرکزی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ایک عہد پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ کے لوگ برطانیہ سے علیحدہ نہیں ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔

یہ عہد برطانوی اخبار ڈیلی ریکارڈ میں شائع ہوا جس پر ڈیوڈ کیمرون، ایڈ ملیبینڈ اور نک کلیگ کے دستخط ہیں۔

واضح رہے کہ سکاٹ لینڈ کا برطانیہ سے علیحدہ ہونے کے حق میں لوگوں کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کو مزید اختیارات صرف اسی صورت میں مل سکتے ہیں اگر برطانیہ سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔

اس عہد کے تین حصے ہیں۔

پہلے حصے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو ’وسیع اختیارات‘ ایک ’عمل کے ذریعے اور طے شدہ وقت‘ میں دیے جائیں گے۔ اس عمل اور ٹائم ٹیبل کا فیصلہ تینوں جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔

دوسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ تینوں سربراہان اس بات پر متفق ہیں کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی کے ذریعے برطانیہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سب کے لیے مواقعے اور سکیورٹی ہو۔

مقابلہ برابر اور انتہائی سخت

راۓ عامہ کے حالیہ جائزے کے مطابق اس وقت برطانیہ کے ساتھ رہنے والی مہم کو آزاد سکاٹ لینڈ کی مہم پر معمولی سبقت حاصل ہے۔ اس سے قبل ہونے والی دو جائزوں کے مطابق ’ہاں‘ اور ’نہ‘ کے درمیان مقابلہ برابر اور انتہائی سخت تھا۔

ریفرینڈم کی مہم میں شامل سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے علیحدگی کے حامیوں اور مخالفین میں مقابلہ اس قدر کانٹے کا ہے کہ نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا محال ہے۔

11 ستمبر 1997 یعنی آج سے ٹھیک 17 برس قبل سکاٹ لینڈ کے عوام نے اختیارات کی تقسیم کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے نتیجے میں تین سو سال کے طویل عرصے کے بعد سکاٹش پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔

تیسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ سروس این ایچ ایس کی فنڈنگ کے حوالے سے حتمی فیصلہ سکاٹ لینڈ کی حکومت کا ہی ہو گا۔

اس سے قبل وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور قائد حزب اختلاف ایڈ ملی بینڈ سمیت برطانیہ کی تمام سیاسی قیادت اس کوشش میں ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام کو قائل کر سکیں کہ وہ برطانیہ سے علیحدگی اختیار نہ کریں۔

سکاٹ لینڈ کے وزیراعلیٰ ایلیکس سیمنڈ نے کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم میں آزادی کے حق میں فیصلہ دے کر عوام نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنسکاٹ لینڈ کے وزیراعلیٰ ایلیکس سیمنڈ نے کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم میں آزادی کے حق میں فیصلہ دے کر عوام نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں

برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدگی کا فیصلہ ’سکاٹ لینڈ کے عوام کے ہاتھ‘ میں ہے اور ملکہ برطانیہ اگلے ہفتے ہونے والے ریفرنڈم پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتیں۔

تاہم سول پیدا ہوتا ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ علیحدگی کا فیصلہ کرتا ہے تو برطانیہ کی شمالی سرحد کے پار ملکہ کے کردار پر کیا اثر پڑے گا؟

یورپ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی سے یورپ میں پائی جانے والی علیحدگی کی تحریک یا خواہشوں میں شدت آئے گی۔

سکاٹ لینڈ کے وزیراعلیٰ ایلیکس سیمنڈ نے کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ کے ریفرینڈم میں آزادی کے حق میں فیصلہ دے کر عوام نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے لیے منعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایلیکس سیمنڈ نے ریفرینڈم کو سکاٹش عوام کو بااختیار بنانے کا عمل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ اب دوبارہ خوداعتمادی اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل بن رہا ہے۔