لائبیریا میں ایبولا وائرس کا شدید پھیلاؤ

،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ مغربی افریقی ملک لائبیریا میں جان لیوا ایبولا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں آئندہ تین ہفتوں میں مزید ہزاروں نئے کیسز سامنے آنے کا خدشہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ وائرس سے نمٹنے کے روایتی طریقے بہت زیادہ موثر ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔
مغربی افريكي ممالک گنی، لائبیریا، سیرا لیون اور نائجیریا میں ایبولا وائرس کی زد میں آ کر اس سال اب تک کم سے کم 2100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈبليوایچ او کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کی وجہ سے مرنے والے 79 افراد طبی کارکن بھی تھے۔
ڈبليوایچ او کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے لڑنے کے لیے ادارے کی کوششوں کو تین گنا کرنے کی ضرورت ہے۔
ادارے نے لائیبریا کی مونٹسریڈو کاؤنٹی کا ذکر کیا جہاں کم سے کم 1000 بستروں کی ضرورت ہے لیکن ابھی تک بیمار افراد کے وہاں صرف 240 بستر میسّر ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو واپس لوٹایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لائبیریا میں اس وائرس کا پھیلاؤ پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور متاثرہ افراد کو منتقل کرنے کے لیے ٹیکسیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ گاڑیاں وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعے تصور کی جا رہی ہیں۔
جیسے ہی ایبولا کے مریضوں کے لیے نیا سنٹر کھلتا ہے وہ جلد ہی مریضوں سے بھر جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈبليوایچ او کے مطابق جب مریضوں کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ تو ان کے پاس واپس اپنے علاقے میں جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
اس بحران کے لیے بین الاقوامی امداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ نے مغربی افریقہ میں صحت مراکز قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ وہ سیرالیون کے دارالحکومت کے قریب ایک 50 بستروں کا مرکز قائم کرے گی۔ جبکہ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 25 بستروں کا ایک فیلڈ ہسپتال لائبیریا بھیجے گا۔
ایبولا نامی یہ بیماری انسانوں میں براہِ راست طور پر خون کے براہ راست تعلق، جسمانی رطوبت یا اعضا سے، اور بالواسطہ طور پر آلودہ فضا سے پھیلتی ہے۔
ڈبليوایچ او کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے روایتی طریقے جن میں متاثرہ شخص کے ساتھ جسمانی تعلق سے پرہیز یا حفاظتی آلات پہننا لائبیریا میں کار آمد ثابت نہیں ہو رہے۔
تاہم یہ طریقے کم پھیلاؤ کے علاقوں جیسا کے نائجیریا اور سینیگال میں کافی کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔
ڈبليوایچ او کا کہنا ہے کہ خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں مقامی افراد کی جانب سے لیے خود ساختہ حفاظی اقدامات کے باعث اس بیماری کا پھیلاؤ کم ہوا۔
بیماری کے تازہ پھیلاؤ میں شرح اموات 50 فیصد ہے۔







