ایبولا: لائیبیریا، سیرا لیون میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی

لائیبیریا کے وزیر اطلاعات لوئس براؤن نے حکومت کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کے بارے میں بتایا کہ وائٹ شیلڈ کے نام سے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہelvis

،تصویر کا کیپشنلائیبیریا کے وزیر اطلاعات لوئس براؤن نے حکومت کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کے بارے میں بتایا کہ وائٹ شیلڈ کے نام سے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے

افریقی ممالک لایبیریا اور سیرا لیون نے ایبولا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عاید کر دی ہے۔

لائیبیریا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک کے مغربی علاقوں میں فوج نے آمد و رفت کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

اس سے قبل لائیبیریا کی صدر ایلن جانسن سرلیف نے ایبولا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک میں ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایبولا سے ہونے والی ہلاکتوں اور شدت کو روکنا اب کسی بھی سرکاری ادارے یا وزارت کی قانونی ذمہ داریوں کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرض کا تیزی سے پھیلنا بے چینی کا باعث بن رہا ہے جو کہ سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کو متاثر کر رہا ہے۔

’یہ ریاست کی بقا کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ لائیبیریا کی حکومت اور عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔‘

لائیبیریا کے وزیر اطلاعات لوئس براؤن نے حکومت کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کے بارے میں بتایا کہ وائٹ شیلڈ کے نام سے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ فورس جمعے کے روز سے اپنا کام شروع کر دے گی۔ اس کا کام متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے اور ساتھ ہی ہم کوشش کر رہے ہیں کہ طبی عملے کا تحفظ یقینی بنائیں اور ان کے کام میں ممکنہ حد تک کم دخل اندازی کی جائے۔‘

دوسری جانبسیار لیون کی حکومت نے ایبولا وائرس سے متاثرہ ملک کے مشرقی علاقوں سے لوگوں کی دوسرے علاقوں میں نقل مکانی پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔

ادھر سعودی عرب میں زیر علاج متاثرہ مریض گذشتہ روز جدہ کے ہسپتال میں انتقال کر گئے جبکہ سپین پہنچنے والے متاثرہ ہسپانوی پادری اور راہبہ کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

ان کی حالت کے بارے میں ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راہبہ بہت اچھی حالت میں ہیں اور پادری کی حالت بھی مستحکم ہے۔

عالمی ادرارہ صحت کے ماہرین اس جان لیوا وائرس کو پھیلنے سے روکنے سے متعلق غور فکر کے لیے جنیوا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ متوقع ہے کہ دو روزہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ دنیا بھر میں ایبولا سے متعلق ہنگامی صورتحال کا نفاذ کیا جائے یا نہیں۔

ایبولا وائرس نے مغربی افریقہ میں لائیبیریا،گنی، سیرا لیون اور نائجیریا کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

عالمی ادرارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایبولا وائرس متاثرہ علاقوں میں اب تک 932 جانیں لے چکا ہے۔ ہلاک ہونے والے متاثرہ افراد میں سے 282 کا تعلق لائیبیریا سے تھا۔