شام کا بحران 30 لاکھ لوگوں کی نقل مکانی

۔۔ شام کی کل آبادی کا تقریباً نصف بے گھر ہونے پر مجبور ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہUNHCR

،تصویر کا کیپشن۔۔ شام کی کل آبادی کا تقریباً نصف بے گھر ہونے پر مجبور ہو گیا ہے

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بحران بدترین ہوتا جا رہا ہے اور اس کے پاس رجسٹرڈ افراد کی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے شام میں جاری انسانی بحران اس دور کی سب سے بڑی ایمرجنسی ہے جس کی باعث شام کی کل آبادی کا تقریباً نصف بے گھر ہونے پر مجبور ہو گیا ہے۔

زیادہ تر افراد شام کی ہمسایہ ریاستوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جن میں سے 11 لاکھ سے زائد صرف لبنان میں پناہ گزین ہیں۔

شام کی خانہ جنگی میں اب تک تقریباً 190000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام کی حزبِ اختلاف کے گروہ مارچ 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے صدر بشارالاسد کی سرکاری فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں دولتِ اسلامیہ کی تشکیل اور پیش قدمی کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ یہ جماعت شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قابض ہو چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ شام کے 12 فیصد لوگ سرحد عبور کر چکے ہیں اور مزید 65 لاکھ افراد شام کے اندر ہی بے گھر ہیں جن میں سے نصف بچے ہیں۔

ہمسایہ ممالک میں پہنچنے والے خاندان تھکے ہوئے اور خوفزدہ ہیں ان میں سے کئی خاندانوں کو شام کے اندر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں ہجرت کرتے کرتے ایک برس ہو گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ شام سے نکلنے کا سفر بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے جہاں اب کئی لوگوں کو مسلح افراد کو رشوت دینا پڑ رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں مہاجرین کے لیے ہائی کمشنر انتونیو گٹریس کا کہنا ہے: ’شام کا بحران ہمارے دور کا سب سے بڑا بحران ہے۔ اب تک دنیا ان کی اور میزبان ممالک کی ضروریات پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

11 لاکھ سے زائد شامی صرف لبنان میں پناہ لیے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن11 لاکھ سے زائد شامی صرف لبنان میں پناہ لیے ہوئے ہیں

ان کے بقول ’شام کے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کارروائیاں خاصی زیادہ ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ اب بھی ضرورت سے بہت کم ہیں۔‘