دولتِ اسلامیہ شام کے اہم فضائی اڈے پر ’قابض‘

،تصویر کا ذریعہReuters
شام اور عراق میں سرگرم عمل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شامی حکومت کے اہم فضائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔
دولت اسلامیہ سے منسلک افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے صوبہ رقہ میں بشارالاسد حکومت کے آخری مضبوط اڈے طبقہ پر قبضہ کر لیا ہے۔
دوسری جانب شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی تصدیق کی ہے کہ شامی فوجوں نے طبقہ کے فضائی اڈے سے ’انخلا‘ کر لیا تھا۔
تاہم سرکاری ٹی وی کا کہنا تھا کہ اب شامی فوجوں نے خود کو دوبارہ منظم کر لیا ہے اور وہ دولت اسلامیہ پر فضائی حملے کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق شام میں تین برس سے جاری تنازعے میں اس سال اپریل تک 191 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران آئی ایس یا دولتِ اسلامیہ (جس کا پہلا نام داعش تھا) اپنے دائرہ کار میں اضافہ کرتے ہوئے مشرقی شام اور شمالی عراق کے ایک بڑے حصے پر اپنا تسلط قائم کر چکی ہے۔
حالیہ عرصے میں امریکہ نے اس گروہ کے خلاف عراق میں فضائی کارروائیاں کی ہیں لیکن امریکہ نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
شامی حزبِ مخالف سے منسلک برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ طبقہ میں فضائیہ کے اڈّے کے ارد گرد لڑائی جاری ہے تاہم یہ اڈّہ اب دولتِ اسلامی کے قابو میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری فوجیں فضائی اڈّے پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ’طبقہ کے فضائی اڈے کے دفاع کی شدید جنگ کے بعد سرکاری فوجوں نے وہاں سے انخلا کر لیا تھا، لیکن اس کے بعد سرکاری فوجوں نے خود کو دوبارہ سے منظم کر لیا ہے۔‘







