روس یوکرینی باغیوں کی حمایت بند کرے: صدر اوباما

امریکی صدر اوباما نے روسی صدر پوتن سے فون پر بات کی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اوباما نے روسی صدر پوتن سے فون پر بات کی

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین میں باغیوں کو اسلحے کی فراہمی اور علیحدگی پسندوں کی حمایت بند کریں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ بات اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے فون پر کہی۔ صدر اوباما نے یہ بھی کہا اگر ماسکو اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

دوسری جانب کریملن نے کہا ہے کہ صدر پوتن نے کیئف اور یوکرین کی مشرقی علاقے کے باغیوں کے درمیان براہ راست بات چیت پر زور دیا ہے۔

پیر کی شام دیر گئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’صدر اوباما نے صدر ولادی میر پوتن سے بات کی ہے اور ان پر اسلحے اور دوسرے ساز و سامان سرحد پار جانے دینے اور جنگجوؤں اور علیحدگی پسندوں کی حمایت کے بجائے امن کی حمایت کرنے کے لیے زور دیا ۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگر ہم روس کی جانب سے حالات میں بہتری لانے کے ٹھوس اقدام نہیں دیکھتے تو ہم مزید پابندیاں لگائيں گے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے پہلے سے ہی روس پر کئی قسم کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

واشنگٹن نے کہا کہ گذشتہ ہفتے کئی روسی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں سرحد پار کر کے مشرقی یوکرین میں داخل ہوئی ہیں جبکہ روس نے اس بات کی پرزور تردید کی ہے۔

روس کے سفیر میخائل زیوابوف اور یوکرین کے سابق صدر لیونیدکیوچما بھی جنھیں صدر پیٹرو پوروشنکو کی طرف ثالث سمجھا جاتا ہے ان مذاکرات میں شامل ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس کے سفیر میخائل زیوابوف اور یوکرین کے سابق صدر لیونیدکیوچما بھی جنھیں صدر پیٹرو پوروشنکو کی طرف ثالث سمجھا جاتا ہے ان مذاکرات میں شامل ہوئے

اس سے قبل یوکرین کے صدر کی طرف سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں روس نواز باغیوں نے کہا ہے کہ وہ جمعے کی صبح تک جنگ بندی کی پابندی کریں گے۔

اس بات کا اعلان ایلیگزینڈر بوردائی نے دونیتسک میں کیا جو ’دونیتسک پیپلز ریپبلک‘ کے خود ساختہ رہنما ہیں اور کیئف کی عملداری کو نہیں مانتے۔

واضح رہے کہ جمعے کو یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے ملک کےمشرق میں روس حامی باغیوں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ایک ہفتے کے لیے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

ایلیگزینڈر بوردائی نے دوتنسک میں ابتدائی امن بات چیت میں حصہ لینے کے بعد کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ جنگ بندی کے دوران دنوں طرفین امن بات چیت کو آگے بڑھانے اور امن سمجھوتہ کرنے کے لیے مشاورت شروع کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔‘

اس اعلیٰ سطح کے ابتدائی امن مذاکرات میں علیحدگی کی طرف جکاؤ رکھنے والے علاقے لوہانسک کے نمائندوں کیئف کے مخالف ویکٹر میدویدچوک نے جسے روسی صدر ولادی میر پوتن کے قریب سمجھا جاتا ہے، حصہ لیا۔

روس کے سفیر میخائل زیوابوف اور یوکرین کے سابق صدر لیونیدکیوچما بھی جنھیں صدر پیٹرو پوروشنکو کی طرف ثالث سمجھا جاتا ہے ان مذاکرات میں شامل ہوئے۔مذاکرات میں او ایس سی ای سے تعلق رکھنے والے یورپی مذاکرات کار بھی اس بات چیت میں شریک ہوئے۔

صدر پیٹرو پوروشنکو کی طرف سے تجویز کردہ امن منصوبے کے تحت اختیارات کا مقامی سطح پر انتقال ہوگا اور جلد ہی مقامی پارلیمان کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے۔

اس منصوبے میں روس اور یوکرین کی سرحد پر دس کلو میٹر بفر زون بنانے کی تجویز ہے اور باغیوں کو کشیدگی والے علاقے سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی گنجائش ہے۔

جبکہ باغیوں کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گے جب تک سرکاری فوج اس خطے سے نکل نہیں جاتی۔دوتنسک اور لوہانسک کے علاقوں میں اب باغی اہم سرکاری عمارتوں پر قابض ہے۔