یوکرین بحران، پوروشنکو اور پوتن کی غیر رسمی ملاقات

،تصویر کا ذریعہAP
یوکرین کے نو منتخب صدر پیٹرو پوروشنکو نے روسی صدر ولادمیر پوتن کے ساتھ اپنی ملاقات کو مشرقی یوکرین میں جاری بحران کے سلسلے میں مذاکرات کا آغاز قرار دیا ہے۔
نو منتخب صدر نے سنیچر کو حلف اٹھانا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ روس جلد ہی انھیں تسلیم کر کے اتوار کے روز مذاکرات کا آغاز کر دے گا۔
صدر یوتن نے کیوف کے رویے کی تعریف کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے قبل قوری جنگ بندی لازمی ہے۔
صدر پوتن اور نو منتخب صدر پوروشنکو کی ملاقات فرانس کے شہر نورمنڈی میں دوسری جنگِ عظیم کے ڈی ڈے کی یاد میں ہونے والی تقریب میں ہوئی۔
مئی میں پیٹرو پوروشنکو کے انتخاب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے بھی صدر پوتن سے یوکرین میں جاری بحران کے حل کے سلسلے میں بات چیت کی۔
درین اثنا روس حامی باغیوں اور یوکرین کی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ جمعے کو باغیوں نے ایک حکومتی طیارہ ما گرایا تھا۔
یوکرینی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طیارے پر امداد سامانا لدا ہوا تھا تاہم اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون کے رہنماؤں نے حال ہی میں روس سے کہا تھا کہ اسے یوکرین کی نئی قیادت کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے تاکہ بحران کا حل نکالا جا سکے۔ امریکی صدر براک اوباما اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے روس پر زور دیا تھا وہ یوکرین کے نو منتخب صدر پیٹرو پوروشینكو کو تسلیم کرے۔
جی سیون کے رہنماؤں نے برسلز میں اجلاس کے دوران کہا کہ وہ پوروشینكو کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں برطانوی وزیرِ اعظم نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات بھی کی اور انھیں یوکرین کے بحران کے حل کے بارے میں اپنے واضح موقف سے آگاہ کیا۔ بحران کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب پوتن نے کسی مغربی ملک کے رہنما سے بالمشافہ ملے۔







