جی سیون اجلاس، یوکرین کا مسئلہ حاوی

،تصویر کا ذریعہPA
دنیا کے سات طاقتور ممالک کی تنظیم میں شامل مغربی ممالک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر روس مشرقی یوکرین کو غیرمستحکم کرنے سے باز نہ آیا تو وہ اس پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہیں۔
یورپی ملک بیلجیئم کے شہر برسلز میں جی سیون تنظیم کے ایک مشترکہ بیان میں مغربی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ روس کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
یہ رواں برس مارچ میں کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے پر روس کے تنظیم سے اخراج کے بعد اس کا پہلا اجلاس ہے۔
اس سے قبل پولینڈ کے دورے پر وارسا پہنچنے والے امریکی صدر براک اوباما نے بھی روس کو یوکرین میں ’غیرقانونی ہتھکنڈے‘ اپنانے پر تنبیہ کی تھی۔
اوباما نے کہا تھا: ’سلطنت اور اس کے اثر کے دن چلےگئے ہیں۔ بڑے ملک، چھوٹے ممالک پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتے۔ روس نے كرائميا پر قبضہ کیا ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ یوکرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور روس نے مزید اکسانے والی کوئی حرکت کی تو اسے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
پولینڈ میں کہی گئی اس بات کو برسلز میں صدر اوباما کی موجودگی میں جرمن چانسلر آنگیلا میركل نے انتباہ کے انداز میں آگے بڑھایا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے بیان میں یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم اقتصادی مسائل میں یوکرین کی مدد کریں گے، روس کے ساتھ بات کریں گے، لیکن اگر اس سے بات آگے نہیں بڑھتی ہے تو روس کے خلاف سخت پابندیاں لگائی جائیں گی، کیونکہ ہم یوکرین کو مزید ڈگمگاتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔‘
تاہم یورپی کمیشن کے صدر جوس بروسو نے بی بی سی سے بات چیت کے دوران کہا کہ روس اور جی سیون کے باقی ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت اہم بات ہے کہ ولادیمیر پیوتن کے روس کو ہم جی ایٹ کا ایک قانونی رکن کو قبول نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی ہم نے روس کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہیں، کیونکہ یوکرین کے بحران کے حل میں روس کا اہم کردار ہے۔‘'
ادھر روسی صدر پیوتن نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ یوکرین کے نئے صدر پیٹرو پروشینكو سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ پوروشیكو کے پاس اچھا موقع ہے۔ ان کے ہاتھ ابھی تک خون سے رنگے نہیں ہیں اور وہ کارروائی روک کر اپنے ملک کے لوگوں سے براہ راست بات کر سکتے ہیں۔‘
پیوتن اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کے یہ تمام بیان ایسے وقت آئے ہیں جب یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
یوکرین اور اس کی حمایتی مغربی ملک اس جنگ کے لیے روس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔
اسی تناؤ کی وجہ سے جی سیون اجلاس برسلز میں منعقد ہو رہا ہے ورنہ پہلے سے مقرر پروگرام کے حساب سے اس کا انعقاد روس کے شہر سوچی میں ہونا تھا۔







