دونیتسک کے ہوائی اڈے پر فوج کا دوبارہ قبضہ

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک کی فوج نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد مشرقی شہر دونتسیک کے ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
علیحدگی پسندوں کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق لڑائی میں کم سے کم 30 علیحدگی پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
یوکرین کے مطابق ان کے فوجیوں کو کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
یاد رہے کہ مسلح علیحدگی پسندوں نے پیر کو ہوائی اڈے پر قبضے کی کوشش کی تھی جس کے بعد کیئف حکومت نے اس حملے کا جواب فضائی حملوں سے دیا۔
یوکرین کے نئے صدر پیٹرو پروشینکو نے پیر کو اس بات اعادہ کیا تھا کہ ’انسداد دہشت گردی آپریشن‘ جاری رہے گا۔انھوں نے واضح کیا تھا کہ اب یہ صورتحال مہینوں نہیں بلکہ صرف چند گھنٹوں کی ہے۔
خود ساختہ ’عوامی جمہوری دونیتسک‘ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیر کو ہونے والی 30 ہلاکتوں کی تعداد مصدقہ ہے۔
ایک باغی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ لاشوں کو مقامی ہسپتال لایا گیا ہے۔
علیحدگی پسندوں نے پیر کو علی الصبح ہوائی اڈے پر حملہ کیا جبکہ یوکرین کی فوج نے فوری ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے فضائی حملے کیے اور مسلح زمینی فوج کی جانب سے بھی حملہ کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کے مطابق پیر کے روز تمام دن اور پھر رات کو شدید فائرنگ اور گولہ باری کی آوازیں آتی رہیں اور فضا میں کالا دھواں پھیلا رہا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے سابق ارب پتی اور سابق وزیرِ خارجہ 48 سالہ پیٹرو پروشینکو کو پیر کو صدارتی انتخابات میں باقاعدہ کامیاب قرار دیا گیا۔ انہوں نے 54 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’یوکرین صومالیہ نہیں بنے گا۔‘
یوکرین کی فوج مشرقی صوبوں لوہانشک اور دونیتسک میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ نبرد آزما ہے جنہوں نے خودمختاری کا اعلان کیا ہے۔
یوکرین میں یہ بغاوت اس وقت شروع ہوئی جب روس کے حامی صدر وکٹر یانوکوچ کو یورپ کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات کے مطالبے پر پرتشدد مظاہروں کے بعد معزول کردیا گیا تھا۔
اس کے بعد روس نے یوکرین کے جنوبی علاقے کرائمیا کے خطے کے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔







