دونیتسک میں یوکرینی فوجیوں پر حملہ، 6 ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین کے مشرقی علاقے دونیتسک میں حکام کا کہنا ہے کہ تیس مسلح باغیوں کے حملے میں چھ یوکرینی فوجی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔
یوکرین کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ باغیوں نے یہ حملہ دونیتسک کے قصبے کراماٹوسک میں کیا۔
نامہ نگاروں کے مطابق علیحدگی پسندوں کے خلاف حکومتی آپریشن کے آغاز کے بعد یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔
یوکرین کے مشرقی علاقے میں دونیتسک دو علاقوں میں سے ایک ہے جہاں حالیہ ریفرینڈم میں یوکرین سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس ریفرینڈم کو کیئف، امریکہ اور یورپی یونین نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
یوکرین کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ بکتر بند گاڑی پر جس میں چھاتہ پردار فوجی سوار تھے گرینیڈ سے حملہ کیا گیا۔
وزارت دفاع کے مطابق اس حملے کے بعد علیحدگی پسندوں اور فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے باعث زیادہ فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
یوکرین کے روس نواز علیحدگی پسند رہنما ڈینس پشلن نے مطالبہ کیا ہے کہ ریفرینڈموں کے نتائج کی روشنی میں مشرقی یوکرین کو روس میں ضم ہونا چاہیے۔
دونیتسک سے تعلق رکھنے والےعلیحدگی پسند رہنما ڈینس پشلن نے کہا روس کو لوگوں کی خواہش پر کان دھرنے چاہییں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈینس پشلن نےپیر کو کہا تھا کہ دونیتسک میں موجود یوکرینی فوجیوں کو قابض فوج تصور کیا جائے گا اور ان کو علاقہ چھوڑ دینا چاہیے۔
مغربی ممالک نے روس نواز علیحدگی پسندوں کی طرف سے ملک کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں کروائے جانے والے دو غیر سرکاری ریفرینڈموں کو ’ڈھونگ‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور یورپی یونین نےروس پر مزید پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔
علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ لوہانسک اور دونیتسک کے علاقوں میں ’خودمختاری کے حق‘ میں بالترتیت 89 اور 96 فیصد ووٹ پڑے ہیں۔







