روس نے یوکرین کو گیس معاہدے کی پیشکش کر دی

،تصویر کا ذریعہAFP
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کو گیس کی قیمت میں دی جانے والی رعایت کا مقصد اس کی معیشت میں بہتری لانا ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے مذاکرات کے بعد روس کی جانب سے دی جانے والی گیس کی رعایتی قیمت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ روس کی گیس کے جال میں نہیں پھنسے گا۔‘
تاہم روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بدھ کو کہا کہ یوکرین کو گیس کی قیمت میں رعایت دینے کا مقصد مشکل وقت میں اس کی معیشت میں بہتری لانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری آفر کا مقصد یوکرین کی معیشت کی بحالی میں اس کی مدد کرنا تھا۔
روس کی جانب سے یوکرین کو گیس برآمد کرنے کا معاہدہ واپس لینے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
روس نے ہر 1,000 کیوبک میٹر گیس برآمد کرنے پر یوکرین کو 100 امریکی ڈالر رعایت کی پیشکش کی تھی۔
یوکرین کے وزیرِ اعظم نے روس کی اس پیشکش کو ایک ’جال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین روس کے ساتھ گیس کی قیمت کے حوالے سے ایک نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
خیال رہے کہ روس نے گذشتہ ماہ چین کے ساتھ 30 سال کے لیے اربوں ڈالر کی مالیت کےگیس کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ معاہدہ روس کی گیس پروم کمپنی اور چین کی نیشنل پیٹرولیم کمپنی کے درمیان دس برس کے لیے طے پایا تھا۔
اس معاہدے میں گیس کی سرکاری قیمت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا لیکن اندازے کے مطابق اس معاہدے کی مالیت 400 ارب ڈالر ہے۔
یوکرین میں جاری بحران اور یورپی یونین کی ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے روس اپنی گیس کی متبادل توانائی کی مارکیٹ کی تلاش میں ہے۔







